خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 268

خطبات مسرور جلد 13 268 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015ء ہیں۔ان کا لڑکا فوت ہو گیا تو انہیں ابتلا نہ آ جائے۔اس لئے آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کی کہ الہی میں اس لڑکے کی صحت کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔اس پر الہام ہوا مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا باذنہ۔تم کون ہو کہ میری اجازت کے بغیر شفاعت کرتے ہو۔دیکھو مسیح موعود علیہ السلام کتنا بڑا انسان تھا۔تیرہ سو سال سے اس کی دنیا کو انتظار تھی مگر وہ بھی جب سفارش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ہوتے کون ہو کہ بلا اجازت سفارش کرو۔حضرت صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب مجھے یہ الہام ہوا تو میں گر پڑا اور بدن پر رعشہ شروع ہو گیا۔قریب تھا کہ میری جان نکل جاتی۔لیکن جب یہ حالت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے نے فرمایا کہ اچھا ہم شفاعت کی اجازت دیتے ہیں۔شفاعت کرو۔چنانچہ آپ نے شفاعت کی اور عبدالرحیم خان اچھے ہو گئے صحتیاب ہو گئے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا مگر یہ دعا قبول ہوئی۔شفاعت کی اجازت ملی۔مگر مسیح موعود جیسے انسان کو جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم کون ہو جو سفارش کرو تو اور لوگ جو بڑے بنے پھرتے ہیں ان کی کیا حیثیت کہ کسی کی سفارش کر سکیں۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اذن ہوگا تب آپ سفارش کریں گے۔پس کیسا نا دان ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ میری سفارش دوسرا کر سکے گا۔(ماخوذ از برکات خلاف، انوار العلوم جلد 2 صفحہ 241) اس غلط تصور نے ہمارے ملکوں کے لوگوں میں، ہمارے معاشرہ میں قبر پرستی کی برائی بھی ڈال دی ہے۔اس میں مبتلا ہو چکے ہیں اور شرک کرتے ہیں، پیروں کو پوجتے ہیں۔پس اس بات کو ہر احمدی کو یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہی فرمایا ہے کہ جب اذن ہوگا اسی کی سفارش ہوگی۔(صحیح البخاری کتاب التوحید باب کلام رب عز وجل يوم القيامة مع الانبياء وغيرهم حديث 7510) پھر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کس طرح اپنی قدرت کے عجائبات دکھایا کرتا تھا۔اس کی ایک مثال دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کو کھانسی کی شکایت تھی۔مبارک احمد ( جو آپ کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے ) کے علاج میں آپ ساری ساری رات جاگتے تھے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ان دنوں بارہ بجے کے قریب میں سویا کرتا تھا اور جلدی ہی اٹھ بیٹھتا۔لیکن جب میں سوتا اس وقت حضرت صاحب کو ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ) جاگتے دیکھتا اور جب اٹھتا