خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 261 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 261

خطبات مسرور جلد 13 261 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء یہاں تک کہ حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ ان کے فلاسفروں نے اس زمانے میں کہا کہ سوال یہ نہیں کہ خدا نے دنیا کو کس طرح پیدا کیا بلکہ یہ ہے کہ انسان نے خدا کو کس طرح پیدا کیا۔نعوذ باللہ۔ان کے نزدیک خدا کا سوال انسانی ارتقاء کا نتیجہ ہے۔اگر خدا کا وجود ایک حقیقت بھی ہے تو پھر بھی وہ دماغی ترقی کی انتہائی کڑی ہے ، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ان کے نزدیک انسان نے ایک اچھا نمونہ تلاش کرنا چاہا۔جب وہ انسانوں میں ایک عمدہ نمونہ تلاش نہ کر سکے تو انہوں نے انسانوں سے باہر ایک ذہنی نقشہ قائم کیا۔تصورات میں ایک نقشہ قائم کیا۔اس نقشہ کو قائم کرنے میں انسان کی پہلی کوشش ایسی کامیاب نہ تھی مگر جوں جوں وہ زیادہ غور کرتا گیا، زیادہ ترقی کرتا گیا یہاں تک کہ اس نے ایک کامل نقشہ تیار کر لیا اور اس کا نام خدا ہے۔یہ اس زمانے کے فلاسفروں کے نزدیک خدا کا تصور ہے اور اب بھی بعض یہ کہتے ہیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اس طرح ان لوگوں نے خدا کو بھی مادیات کا حصہ قرار دے دیا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 463 تا 466) اس زمانے کے فلاسفروں نے یہ خود ساختہ خدا بنایا تھا اور بہت سے ان میں سے ایسے بھی تھے جو اس خود ساختہ خدا پر یقین بھی رکھتے تھے لیکن پھر بعد کے آنے والے جو فلاسفر ہیں یا ترقی یافتہ کہلانے والے ہیں اس طرح کے مادی خدا بنانے کی وجہ سے آہستہ آہستہ پھر مذہب سے دور ہٹتے گئے اور آجکل اس خیال کی وجہ سے کہ خدا ایک خود ساختہ چیز ہے موجودہ فلاسفر دہریت کی طرف چلے گئے ہیں۔بلکہ تعلیم اور روشن خیالی کے نام پر مغربی ممالک میں رہنے والوں کی اکثریت خدا کے وجود سے ہی انکاری ہو چکی ہے اور صرف اخلاق اور مادی ترقی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔اور ان دہریت پسند لوگوں کے جو نظریات ہیں ان کو آجکل کے مولوی مزید ہوا دیتے ہیں جنہوں نے اپنی ہر چیز اور اپنے ہر نظریے کو مذہب کا حصہ ٹھہرا کر عجیب جہالت پھیلا دی ہے۔پس اس لحاظ سے ہم دیکھیں تو آجکل کے علماء بھی غلطی خوردہ ہیں اور مذہب کو مادیت سمجھنے والے اور اس کا انکار کرنے والے بھی غلطی خوردہ ہیں۔ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان چیزوں سے بچا کرایسی رہنمائی فرمائی ہے کہ اصل حقیقت جاننے کے لئے فرمایا کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت بیان فرمائی کہ ہر معاملے میں اعتدال اور اس کا حق ادا کرنا ہے۔یہ حقیقی دین ہے۔آپ نے فرمایا کہ بیشک عبادت انتہائی ضروری ہے۔پیدائش کا مقصد ہے لیکن وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَق وَ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقُّ وَ لِجَارِكَ عَلَیکَ حَق کہ تیرے نفس کا بھی تجھ