خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 260 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 260

خطبات مسرور جلد 13 260 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء کر ایسا نمونہ نہیں دکھا سکتا جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دکھایا ہے۔پھر تیسری چیز مادیات ہے۔اس میں ہم دیکھتے ہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اس طرف بھی ہمیں رہنمائی کرتی ہے۔مثلاً ایک شہری زندگی کے لئے سڑکوں کو کھلا رکھنا ہے۔پانی کی صفائی کا انتظام ہے۔شہر بسائے جاتے ہیں یا نئی آبادیاں قائم کی جاتی ہیں تو ان کی طرف بڑے بڑے انجنیئر اور سوچنے والے سوچتے ہیں، اس طرف توجہ دیتے ہیں۔آپ نے اس طرف ہمیں توجہ دلائی۔راستوں کی صفائی کا تعلق ہے تو آپ نے اس طرف توجہ دلائی۔مکانوں کو کھلے اور ہوادار بنانے کا تعلق ہے تو آپ نے اس طرف توجہ دلائی۔تمام مادی چیزوں اور دنیاوی چیزوں کی طرف بھی آپ نے توجہ دلائی، چاہے وہ حکومتی معاملات ہیں یا تمدن ہے یا تجارت ہے یا صنعت ہے۔ہر چیز کو اپنے اپنے موقع پر آپ نے بیان فرمایا اور اس کی بڑی تفصیلات آپ کی سیرت سے ہمیں ملتی ہیں۔لیکن اس کے باوجود آجکل کے مذہبی رہنماؤں کی طرح ہر چیز کو آپ نے مذہب کا حصہ قرار نہیں دیا۔مثلاً ایک واقعہ آپ کے متعلق آتا ہے کہ کچھ زمیندار اپنے کھجور کے باغ میں نر کا مادہ جو ہے، بور جو ہے وہ مادہ میں ڈال رہے تھے۔( کھجور کے پودے نر اور مادہ علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔) آپ کا وہاں سے گزر ہوا۔آپ نے فرمایا کہ کیا حرج ہے کہ اگر اس کو اس طرح نہ ملا ؤ۔ہوا کے ذریعہ سے یہ نر اور مادہ خود بھی مل سکتا ہے۔لوگوں نے اسے ملانا چھوڑ دیا۔اس سال یا اگلے سال اس پر عمل نہیں ہوا تو پھل بہت کم آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے ہی منع فرمایا تھا۔آپ نے فرمایا میں نے حکم نہیں دیا تھا۔ان دنیاوی باتوں کو آپ لوگ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہاں اب گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مادیات کو مذہب سے جدا کر دیا۔وہ زبان بھی خدا کے رسول کی زبان تھی جس نے یہ کہا تھا کہ کیا ضرورت ہے ملانے کی اور وہی زبان ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکامات بھی بتاتی تھی مگر با وجود اس کے کہ وہ خدا کے رسول کی زبان تھی آپ نے مادیات کو مادیات قرار دے کر فرمایا کہ تم ان باتوں کو زیادہ جانتے ہو۔مگر آجکل کے مولوی خواہ ان کے منہ سے انہونی بات ہی نکلے اس کے نہ ماننے سے اسلام کے دائرے سے خارج اور کافر اور مرتد کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔دوسری طرف یہ مغربی یا نام نہاد ترقی یافتہ گروہ ہے۔ان کے نزدیک نہ مذہب پر ایمان لانا ضروری ہے، نہ مذہب کی تعلیم کی عزت ہے۔نہ اخلاق کی حرمت ہے۔وہ ہر شئے کو مادی قرار دیتے ہیں