خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 251
خطبات مسرور جلد 13 251 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء بھتیجوں نے یہ سن کر کہا کہ ہاں ٹھیک ہے۔یہ بات ان بچوں کی سمجھ میں تو نہ آئی لیکن وہ شخص چونکہ عقلمند تھا اس لئے وہ دیکھ رہا تھا کہ ایک لڈو کے تیار ہونے میں لاکھوں آدمیوں کی محنت خرچ ہوتی ہے۔ی تو اس نے دنیاوی رنگ میں نصیحت کی تھی مگر جو روحانی بزرگ ہوتے ہیں انہوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔(پھر آپ نے مرزا مظہر جان جاناں کا واقعہ بیان کیا کہ انہوں نے بٹالے کے ایک شخص غلام نبی کو دو لڈو دیئے۔اس نے منہ میں ڈال لئے اور کھا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد اس سے انہوں نے پوچھا کہ تم نے ان لڈوؤں کا کیا کیا؟ اس نے کہا کھالئے۔یہ سن کر انہوں نے نہایت تعجب انگیز لہجے میں پوچھا کہ ہیں! کھالئے؟ اس نے کہا جی ہاں کھالئے۔اسی طرح وہ بار بار ان سے پوچھتے رہے اور تعجب کرتے رہے۔اتنی جلدی تم نے کھالئے۔اس کو خیال ہوا کہ انہیں دیکھنا چاہئے کہ یہ کس طرح کھاتے ہیں۔ایک دن کوئی شخص ان کے پاس کچھ لڈولا یا۔ان میں سے آپ نے ایک لڈو اٹھا کر رومال پر رکھ لیا اور اس میں سے ایک ریزہ توڑ کر آپ نے تقریر شروع کر دی کہ میں ایک ناچیز ہستی ، میرے لئے خدا تعالیٰ نے یہ اتنی بڑی نعمت بھیجی ہے۔اس میں کیا کیا چیزیں پڑی ہیں۔پھر ان کو کتنے آدمیوں نے بنایا ہو گا۔کیا مجھے نا چیز کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ نعمت بھیجی ہے؟ اس طرح تقریر کرتے رہے اور ادھر اپنی عاجزی اور فروتنی بیان کرتے رہے اور اُدھر خدا تعالیٰ کی حمد اور تعریف کرتے رہے۔اسی طرح ظہر سے کرتے کرتے ابھی پہلا ہی دانہ جو منہ میں ڈالا تھا وہی کھایا تھا کہ عصر کی اذان ہو گئی اور اسے چھوڑ کر وضو کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ کیا بات تھی؟ یہی کہ اس لڈو میں انہیں خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات نظر آتے تھے۔یوں کھانے والا تو چار پانچ دس میں لڈو بھی جھٹ پٹ کھا سکتا ہے مگر مظہر جان جاناں کے لئے ایک ہی لڈو اتنا بوجھل ہو گیا کہ اس کے کھانے سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے ان کی کمر ٹوٹی جاتی تھی۔تو عقل ہی ایک چھوٹی سی چیز کو بڑا بنا دیتی ہے اور نادانی نظر آنے والی بڑی چیز کو بھی چھوٹا ظاہر کر دیتی ہے۔اسی طرح عقل ایک بڑی نظر آنے والی چیز کو چھوٹا دکھا دیتی ہے اور نادانی ایک معمولی چیز کو بڑا دکھا دیتی ہے۔تو عقلمند انسان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی خدا کے بڑے بڑے نشان دیکھ لیتا ہے اور نادان بڑی بڑی اہم باتوں میں بھی کچھ نہیں دیکھتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ میری صداقت کے خدا تعالیٰ نے لاکھوں نشانات دکھلائے ہیں۔یہ بالکل درست ہے اور (اس میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) میں تو کہتا ہوں کہ آپ کی صداقت کے خدا تعالیٰ نے اس قدر نشانات دکھلائے ہیں کہ جن کا شمار بھی نہیں ہوسکتا۔