خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 8
خطبات مسرور جلد 13 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء پابندی کرنی ہے کہ نمازوں کو پانچ وقت اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) دس سال کے عمر کے بچے پر بھی نماز فرض ہے۔پس والدین کو اس کی نگرانی کی ضرورت ہے اور اس نگرانی کا حق تبھی ادا ہو گا جب خود والدین نمازوں میں نمونہ ہوں گے۔بہت ساری شکایتیں میرے پاس آتی ہیں۔بعض بچے بھی کہتے ہیں کہ ہمارے والدین نماز نہیں پڑھتے یا بیویاں کہتی ہیں کہ خاوند نماز نہیں پڑھتے۔بچے کیا نمونہ دیکھ رہے ہوں گے؟ مردوں کے لئے پانچ وقت کی نماز شرائط کے ساتھ ادا کرنے کا مطلب ہے که مسجد جا کر با جماعت نماز ادا کریں سوائے بیماری یا کسی بھی خاص جائز عذر کے۔اگر اس پر عمل شروع ہو جائے تو ہماری مسجد میں نمازیوں سے بھر جائیں۔صرف عہدیداران ہی اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو بہت فرق پڑ سکتا ہے۔اس بارے میں میں وقتا فوقتا کہتا رہتا ہوں لیکن ابھی بھی بہت کمی ہے اور کوشش کی ضرورت ہے۔جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں کو اس بارے میں بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے ( ملفوظات جلد 5 صفحہ (254) اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا ؟ پھر اس میں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔پس اس طرف ہر احمدی کو بہت بڑھ کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔پھر یہ عہد ہم سے لیا کہ نماز تہجد کا بھی التزام کریں گے۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں نماز تہجد کا التزام کرنا چاہئے کیونکہ یہ گزشتہ صالحین کا طریق رہا ہے اور قرب الہی کا ذریعہ ہے۔یہ عادت گناہوں سے روکتی ہے اور برائیوں کو ختم کرتی ہے اور جسمانی بیماریوں سے بچاتی ہے۔(سنن الترمذی کتاب الدعوات باب 112 حدیث 3549) تہجد روحانی اور جسمانی علاج پس نہ صرف روحانی علاج ہے بلکہ جسمانی علاج بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ”ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کرلیں۔جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائے گا۔اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 245)