خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 241
خطبات مسرور جلد 13 241 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء وہ (صوفی صاحب) چونکہ واقعہ میں اہل اللہ میں سے تھے۔خدا تعالیٰ نے ان کو دور بین نگاہ دی ہوئی تھی اس لئے یہ بات سنتے ہی ان پر محویت کا عالم طاری ہو گیا اور کہنے لگے میں آج سے اس علم سے تو بہ کرتا ہوں۔مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ یہ دنیوی بات ہے، دینی بات نہیں۔چنانچہ اس کے بعد انہوں نے ایک اشتہار دیا جس میں یہ لکھا کہ یہ علم اسلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔چنانچہ کوئی ہندو یا عیسائی بھی اس علم میں ماہر ہونا چاہے تو ہوسکتا ہے۔اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ آج سے میرا کوئی مرید ا سے اسلام کا جز وسمجھ کر نہ کرے۔ہاں دنیوی علم سمجھ کر کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ جو میں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے انہیں دور بین نگاہ دی ہوئی تھی اس کا ہمارے پاس ایک حیرت انگیز ثبوت ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی براہین احمدیہ ہی لکھی تھی کہ وہ سمجھ گئے کہ یہ شخص مسیح موعود بننے والا ہے حالانکہ اس وقت ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی یہ انکشاف نہیں ہوا تھا کہ آپ کوئی دعوی کرنے والے ہیں۔چنانچہ انہی دنوں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خط میں یہ شعر لکھا۔پہلے بھی میں شعر کا ذکر کر چکا ہوں کہ ہم مریضوں کی ہے تمہی پر نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لئے تو حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ امر بتاتا ہے کہ وہ صاحب کشف تھے اور خدا تعالیٰ نے انہیں بتا دیا تھا کہ یہ شخص مسیح موعود بننے والا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی سے پہلے فوت ہو گئے مگر وہ اپنی اولا دکو وصیت کر گئے کہ حضرت مرزا صاحب دعوی کریں گے انہیں ماننے میں دیر نہ کر نا۔اور ان کے بارے میں تعارف مزید یہ بھی ہے کہ حضرت مصلح موعود نے لکھا ہے کہ حضرت خلیفتہ اسیح الاول کی شادی بھی ان کے ہاں ہوئی تھی۔(ماخوذ از خطبات محمود۔جلد 17 صفحہ 101 تا 103) حضرت خلیفہ اسیح الاول ان کے داماد تھے۔پھر مسمریزم سے متعلق ایک واقعہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں ہوا حضرت مصلح موعود نے بیان فرمایا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فرستادہ پر مسمریزم کرنے والے کو نہ صرف ناکام و نا مراد کیا بلکہ نشان دکھایا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ: مسمریزم والوں کی قوت ارادی ایمان کی قوت ارادی کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتی ہے۔مسمریزم کی قوت ارادی ایمان کی قوت ارادی کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتی۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی قوت ارادی اور انسان کی قوت ارادی میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے۔( جس مسجد میں آپ یہ خطبہ دے رہے تھے آپ نے فرمایا کہ ) اسی مسجد مبارک میں نچلی چھت پر