خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 242
خطبات مسرور جلد 13 242 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجلس میں بیٹھا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ مجلس میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک ہندو جولاہور کے کسی دفتر میں اکا ؤنٹنٹ تھا اور مسمریزم کا بڑا ماہر تھا وہ کسی بارات کے ساتھ قادیان اس ارادہ سے آیا کہ میں مرزا صاحب پر مسمریزم کروں گا اور وہ مجلس میں بیٹھے ناچنے لگ جائیں گے (نعوذ باللہ ) اور لوگوں کے سامنے ان کی سبکی ہوگی۔یہ واقعہ اس ہندو نے خود ایک احمدی دوست کو سنایا تھا۔وہ اس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لاہور کے اس احمدی کے ہاتھ اپنی ایک کتاب روانہ فرمائی اور کہا یہ کتاب فلاں ہندو کو دے دینا۔اس احمدی دوست نے اس کو کتاب پہنچائی اور اس سے پوچھا کہ حضرت صاحب نے آپ کو اپنی کتاب کیوں بھجوائی ہے اور آپ کا ان کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس پر اس ہندو نے اپنا واقعہ بتایا کہ مجھے مسمریزم کے علم میں اتنی مہارت ہے کہ اگر میں تانگے میں بیٹھے ہوئے کسی شخص پر توجہ ڈالوں تو وہ شخص جس پر میں نے توجہ ڈالی ہوگی وہ بھی تانگے کے پیچھے بھاگا آئے گا حالانکہ نہ وہ میرا واقف ہوگا اور نہ میں اس کو جانتا ہوں گا۔تو کہنے لگا کہ میں نے آریوں اور ہندوؤں سے مرزا صاحب کی باتیں سنی تھیں کہ انہوں نے آریہ مت کے خلاف بہت سی کتابیں لکھیں۔میں نے ارادہ کیا کہ مرزا صاحب پر مسمریزم کے ذریعہ اثر ڈالوں گا اور جب وہ مجلس میں بیٹھے ہوں گے تو ان پر توجہ ڈال کر ان کے مریدوں کے سامنے ان کی سبکی کروں گا۔چنانچہ میں ایک شادی کے موقع پر قادیان گیا۔مجلس منعقد تھی اور میں نے دروازے میں بیٹھ کر مرزا صاحب پر توجہ ڈالنی شروع کی۔وہ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کچھ وعظ ونصیحت کی باتیں کر رہے تھے۔کہتا ہے کہ میں نے توجہ ڈالی تو کچھ بھی اثر نہ ہوا۔میں نے سمجھا ان کی قوت ارادی ذرا قوی ہے اس لئے میں نے پہلے سے زیادہ توجہ ڈالنی شروع کی مگر پھر بھی ان پر کچھ اثر نہ ہوا اور وہ اسی طرح باتوں میں مشغول رہے۔میں نے سمجھا کہ ان کی قوت ارادی اور بھی مضبوط ہے۔اس لئے میں نے جو کچھ میرے علم میں تھا اس سے کام لیا اور اپنی ساری قوت صرف کر دی لیکن جب میں ساری قوت لگا بیٹھا تو میں نے دیکھا کہ ایک شیر میرے سامنے بیٹھا ہے اور مجھ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔(یہ بھی ایک جگہ بیان فرمایا کہ ہر مرتبہ شیر نظر آتا تھا لیکن آخری مرتبہ وہ شیر حملے کے لئے تیار نظر آیا۔بہر حال کہنے لگا شیر کو دیکھ کر ) میں ڈر کر اور اپنی جوتی اٹھا کر وہاں سے بھاگا۔جب میں دروازے پر پہنچا تو مرزا صاحب نے اپنے مریدوں سے کہا دیکھنا یہ کون شخص ہے؟ چنانچہ ایک شخص میرے پیچھے سیڑھیوں سے نیچے اترا اور اس نے مسجد کے ساتھ والے چوک میں مجھے پکڑ لیا۔میں چونکہ اس قوت سخت حواس باختہ تھا اس لئے میں نے پکڑنے والے سے کہا۔اس