خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 240

خطبات مسرور جلد 13 240 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء ہے جو زمین و آسمان کو بدل دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی دعوی نہیں کیا تھا صرف براہین احمد یکھی تھی کہ اس کی صوفیاء اور علماء میں بہت شہرت ہوئی۔پیر منظور محمد صاحب اور پیرافتخار احمد صاحب کے والد صوفی احمد جان صاحب اس زمانے کے نہایت ہی خدا رسیدہ بزرگوں میں سے تھے۔جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہار پڑھا تو آپ سے خط و کتابت شروع کر دی اور خواہش ظاہر کی کہ اگر کبھی لدھیانہ تشریف لائیں تو مجھے پہلے سے اطلاع دیں۔اتفاقاً انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لدھیانہ جانے کا موقع ملا۔صوفی احمد جان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت کی۔دعوت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے گھر سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ صوفی احمد جان صاحب بھی ساتھ چل پڑے۔وہ (صوفی احمد جان صاحب) رتر چھتر والوں کے مرید تھے۔اور ماضی قریب میں ( یعنی اس زمانے کی جب آپ بات کر رہے ہیں ) رتر چھتر والے ہندوستان کے صوفیاء میں بہت بڑی حیثیت رکھتے تھے اور تمام علاقے میں مشہور تھے۔علاوہ زہد و انتقا کے انہیں علم تو جہ میں اس قدر ملکہ حاصل تھا کہ جب وہ ( پیر صاحب ) نماز پڑھتے تھے تو ان کے دائیں بائیں بہت سے مریض صف باندھ کر بیٹھ جاتے تھے اور نماز کے بعد جب وہ سلام پھیرتے تھے تو سلام پھیرنے کے ساتھ ہی دائیں بائیں پھونک بھی مار دیتے تھے (اور اس کا اثر تھا کیونکہ علم توجہ کا اثر بھی زیادہ ہوتا تھا ) جس سے مریض شفایاب بھی ہو جاتے تھے۔جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں میں بیان کر چکا ہوں کہ صوفی احمد جان صاحب نے بارہ سال ان پیر صاحب کی شاگردی کی اور وہ چنگی ان سے پواتے رہے۔تو بہر حال راستے میں صوفی احمد جان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے اتنے سال رتر چھتر والوں کی خدمت کی ہے اور اس کے بعد مجھے وہاں سے اس قدر طاقت حاصل ہوئی ہے کہ دیکھئے میرے پیچھے جوشخص آرہا ہے اگر میں اس پر توجہ کروں ( یعنی مسمرائز کر کے) تو وہ ابھی گر جائے اور تڑپنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ سنتے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنی سوٹی کی نوک سے زمین پر نشان بناتے ہوئے فرمایا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ جب آپ پر خاص جوش کی حالت طاری ہوتی تھی تو آہستگی سے اپنی سوئی کے سر کو اس طرح زمین پر آہستہ آہستہ رگڑتے تھے جس طرح کوئی چیز کرید کر نکالی جاتی ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہو گئے اور سوٹی سے اس طرح زمین کریدنی شروع کی۔فرمایا : صوفی صاحب! اگر وہ گر جائے تو اس سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا اور اس کو کیا فائدہ ہوگا ؟