خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 239 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 239

خطبات مسرور جلد 13 239 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز الخامس ایدہ فرمودہ مورخہ 17 / اپریل 2015 ء بمطابق 17 شہادت 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دعا کی اہمیت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک موقع پر دعا کی اہمیت بیان فرما رہے تھے کہ کس طرح دعا سے کا رہائے نمایاں سرانجام دیئے جاسکتے ہیں۔اس کی تفصیل بتاتے ہوئے آپ نے علم توجہ یعنی مسمریزم کے متعلق بھی بیان فرمایا کہ جو لوگ مسمرائز کرنے کے ماہر ہوتے ہیں وہ بھی اس علم کے ذریعہ سے لوگوں میں بعض تبدیلیاں پیدا کر دیتے ہیں مگر یہ عارضی اور انفرادی ہوتی ہیں اور پھر ایسی بھی نہیں ہوتیں جس سے کوئی انقلابی فوائد حاصل ہو رہے ہوں جبکہ دعا ئیں اگر تو اس کا حق ادا کرتے ہوئے کی جائیں تو قوموں کی بگڑی بنا دیتی ہیں۔اس تفصیل میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان فرمایا جو حضرت صوفی احمد جان صاحب سے متعلق ہے۔حضرت صوفی احمد جان صاحب سے متعلق میں نے تین جمعہ پہلے بھی بیان کیا تھا کہ کس طرح انہوں نے ایک پیر صاحب کے ساتھ رہ کر مجاہدہ کیا تھا لیکن بعد میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی انہیں عقیدت پیدا ہو گئی تھی اور دعوی سے پہلے ہی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کو پہچان لیا تھا۔بہر حال اب میں حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں اس کی تفصیل بیان کرتا ہوں جس سے پتا چلتا ہے کہ علم تو جہ سے دوسرے پر اثر ڈالنے کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا حیثیت دیتے تھے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ علم توجہ کیا ہے؟ محض چند کھیلوں کا نام ہے لیکن دعا وہ ہتھیار