خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 237 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 237

خطبات مسرور جلد 13 237 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اپریل 2015ء چاہئے۔اللہ تعالیٰ سے حقیقی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی ذراسی کوششوں یا ایک آدھ دعا کے قبول ہونے یا چند سچی خوابیں دیکھنے پر نازاں نہیں ہو جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تمہاری ایک آدھ دعا کا قبول ہو جانا یا چند سچی خوا ہیں دیکھ لینا تمہیں فلاح پانے والوں میں شمار کر لے گا۔اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے اور فلاح والے اپنی عاجزی انکساری کی انتہا کو پہنچنے کے باوجود، لغویات سے پر ہیز کرنے کے باوجود، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے باوجود، اپنی عصمتوں کی حفاظت کرنے کے باوجود، اپنے عہدوں کو پورا کرنے کے باوجود، اپنی عبادتوں کے حق ادا کرنے کے باوجود، اپنی نمازوں کے حق ادا کرنے کے باوجود اور ان کی حفاظت کرنے کے باوجود پھر بھی یہی کہتے ہیں کہ اے اللہ! ہمیں اپنے فضلوں کی چادر میں ڈھانپ لے کہ اس کے بغیر ہم کچھ نہیں ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جو انسان کی مسلسل کوشش کو جو وہ اس کی رحیمیت کو جذب کرنے کے لئے کرتا ہے قبولیت کا درجہ دیتا ہے۔یعنی رحیمیت کو جذب کرنے کی کوشش جو ہے وہ مسلسل رہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل حاصل ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے انسان قبول کیا جاتا ہے اور انجام اس کا بہترین نکلتا ہے۔پس اس نکتے کو ایک حقیقی مومن کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے بیشک یہ فرما دیا کہ مومن فلاح پا گئے جو یہ یہ کام کرتے ہیں لیکن اس فلاح کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لئے ہر ترقی اور ہر فضل جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتے ہیں اسے اپنی کسی کوشش کا نتیجہ نہ سمجھیں بلکہ ہر ترقی کے بعد سمجھے کہ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔اگر یہ مادہ پیدا ہو جائے تو ترقی ہوتی چلی جائے گی ورنہ اس نطفے کی طرح جو رحم میں جا کر مکمل پرورش نہیں پاتا اور چند ہفتوں کے بعد نکل کر ضائع ہو جاتا ہے، ہمارا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کو عارضی طور پر جذب کرنے کے بعد اپنے کسی بدعمل سے ناکارہ ہوکر ضائع ہوسکتا ہے اور ہو جاتا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہمیں اپنے انجام کی طرف توجہ رکھنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی رحیمیت کو جذب کرتے ہوئے ہمارے ہر عمل سے وہ بچہ پیدا ہو جو ہر لحاظ سے مکمل ہو۔ان لوگوں میں ہم شمار ہوں جو بجوں جوں عبادت میں ترقی کرنے والے ہوں تو تذلل بھی ان کا بڑھتا چلا جائے۔عاجزی اور انکساری بھی ان کی بڑھتی چلی جائے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کی عبادتوں کی خوبصورتی اور خشوع کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے یہ فرماتے ہیں کہ میں بھی جنت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جاؤں گا (صحیح البخاری کتاب الطب باب تمنى المريض الموت حدیث نمبر 5673 دار الكتاب العربی بیروت 2004ء)