خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 7
خطبات مسرور جلد 13 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء 66 اور ہنگامہ کی جگہوں سے بچتے رہو اور گالیاں سن کر بھی صبر کرو۔بدی کا جواب نیکی سے دو اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہتر ہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جاؤ اور نرمی سے جواب دو فرمایا: ”جب میں یہ سنتا ہوں کہ فلاں شخص اس جماعت کا ہو کر کسی سے لڑا ہے۔اس طریق کو میں ہرگز پسند نہیں کرتا۔اور خدا تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ وہ جماعت جو دنیا میں ایک نمونہ ٹھہرے گی وہ ایسی راہ اختیار کرے جو تقویٰ کی راہ نہیں ہے۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 203-204) پس نہ اپنوں سے ( جھگڑیں) نہ غیروں سے۔ہم میں سے وہ لوگ جو ( لڑائی جھگڑا کرنے والے ہیں ) اگر بیویوں کے ساتھ سلوک میں یا اپنے بھائیوں کے ساتھ تعلقات میں یا اپنے ماحول کے لوگوں کے ساتھ سلوک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کو سامنے رکھیں تو تھوڑے بہت معاملات بھی جو ان شکایات کے سامنے آتے ہیں یہ بھی نہ آئیں۔یا کم از کم ان میں غیر معمولی کمی واقع ہو جائے۔پھر ایک عہد ہم سے یہ لیا کہ بغاوت کے طریقوں سے بچتارہوں گا۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) یہ باغیانہ رویہ چاہے نظام جماعت کے کسی ادنیٰ کارکن کے خلاف ہے یا حکومت وقت کے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے رویوں سے بھی بچنے کی ہدایت فرمائی ہے جن سے بغاوت کی بُو آتی ہے۔دین میں دخل اندازی کے علاوہ حکومت وقت کے باقی احکامات کے خلاف ایسے رویے دکھانا جو خود کو قانون شکن بنارہے ہوں یا دوسروں کو قانون کے خلاف بھر کا سکتے ہوں یہ اسلامی طریق نہیں ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ نفسانی جوشوں سے مغلوب نہ ہونے کا بھی عہد کرو۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) پہلے بھی میں نے بتایا کہ آجکل ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے نفسانی جوشوں سے مغلوب ہونے کے بہت سے مواقع ہیں۔پھر لڑائی جھگڑے، دنگا فساد بھی اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ انسان نفسانی جوشوں سے مغلوب ہوتا ہے۔پس چھوٹی سے چھوٹی بات بھی جو کسی بھی طرح نفسانی جوشوں کو ابھارنے والی یا ان سے مغلوب کرنے والی ہے ان سے بچنے کی بھر پور کوشش کرنا ایک احمدی کا فرض ہے۔نمازوں کی پابندی پھر فرمایا کہ احمدیت میں داخل ہو کر اس بات کا بھی عہد کرو کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بھی