خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 227

خطبات مسرور جلد 13 227 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء ہیں وہ اس میں کامیاب ہو رہی ہیں۔پہلے یہ تھا کہ براہِ راست حملے ہوتے تھے اب بجائے براہ راست حملوں کے یہ طاقتیں آپس میں لڑا کر اپنے مقصد کو حاصل کر رہی ہیں اور مسلمان دنیا کو سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔یہ سوچتے نہیں کہ اس کی کیا وجوہات ہیں۔اس کے نتائج کیا نکلیں گے۔یہ بھی نہیں سوچتے کہ کیوں اللہ تعالیٰ کے اس آخری نبی کے ماننے والوں میں اتنا فتنہ و فساد ہے۔کیوں ترقی کے عروج پر پہنچ کر زوال کی پستیوں میں تقریباً تمام مسلمان ملک گر رہے ہیں۔اس زوال سے بچنے اور ترقی کی منزل پر دوبارہ چلنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ وہ ہے جو خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس مسیح موعود کو ما نوجس نے آخرین کو پہلوں سے ملانا ہے۔فرقہ بندیوں کی بجائے ایک امت بن کر مسیح موعود اور مہدی موعود کے ہاتھ پر جمع ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق دے۔اس کے لئے ہمیں بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دعاؤں کی توفیق دے اور انہیں قبول بھی فرمائے۔نماز جمعہ کے بعد میں دو جنازے پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ حاضر ہے جو مکرم انتصار احمد ایاز صاحب ابن مکرم ڈاکٹر افتخار احمد ایاز صاحب کا ہے جو 28 / مارچ 2015ء کو پچاس سال کی عمر میں بوسٹن امریکہ میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ واِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُون۔ڈاکٹر افتخار ایاز صاحب لکھتے ہیں کہ عزیزم انتصار تنزانیہ میں پیدا ہوئے تھے۔یہ مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری خالد احمدیت کے نواسے اور مختار احمد ایاز صاحب کے پوتے تھے۔نیک ، قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے، تہجد پڑھنے والے۔لندن یونیورسٹی سے انہوں نے کیمیکل انجنیئر نگ میں بی ایس سی اور بعد ازاں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ماسٹر کیا۔نظام جماعت اور نظام خلافت کی کامل اطاعت کرتے تھے۔طوالو کے پہلے صدر مجلس خدام الاحمد یہ بھی مقرر ہوئے۔لندن میں شعبہ اطفال الاحمدیہ میں پہلے سیکرٹری رہے اور پھر مجلس کے قائد بھی رہے۔کافی عرصے تک اپنی مقامی جماعت کے سیکرٹری مال بھی رہے۔ایک پر جوش داعی الی اللہ بھی تھے۔ان کے ذریعہ سے بیعتیں بھی ہوئیں۔چندوں کی ادائیگی میں بہت با قاعدہ تھے اور گزشتہ تین سالوں سے اپنے شعبہ میں مزید مہارت کے لئے امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔وہاں شدید بیمار ہو گئے اور ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ان کے لنگر (lungs) پر اثر ہو گیا یا شائد لیور (lever) پر اثر ہوا۔بہر حال ایک اچھے مثالی بیٹے ، بھائی ،شوہر ، اور باپ تھے۔اپنے بیٹے کی تربیت کا بھی انہیں خیال تھا۔ان کے لواحقین میں والدین اور بہنوں کے علاوہ ان کی اہلیہ رضیہ سلطانہ صاحبہ اور نو سالہ بیٹا افغان ایاز شامل ہیں۔یہ عطاء المجیب راشد صاحب کے بھانجے بھی