خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 226
خطبات مسرور جلد 13 226 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء کر لوگ علم و عرفان میں ترقی کر رہے ہیں۔کس طرح اپنی عملی حالتوں کی بہتری کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے۔پس کیا یہ سب باتیں کسی انسان کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔نہیں بلکہ یقینا یہ باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں خدا تعالیٰ کی تائیدات و نصرت کا پتا دیتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق جو آخری زمانے میں امام آیا اس کی سچائی ثابت کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی برتری ثابت کر رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے سچے دین کی جستجو کرنے والوں کی رہنمائی کا پتا دے کر آج بھی خدا تعالیٰ کے وجود کا فہم و ادراک پیدا کر رہی ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ خدا کہاں ہے اور خدا ہے بھی کہ نہیں۔جو نیک لوگ ہیں ، نیک فطرت ہیں وہ دکھاتے ہیں کہ خدا ہے۔لیکن افسوس ہے ان لوگوں پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پر باوجود مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کے ایمان نہیں لاتے ، جو اپنے نام نہاد علماء کی باتوں میں آ کر سچائی کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ایک عیسائی کو، ایک لا مذہب کو، ایک ہندو کو تو اس بات کا ادراک ہو جاتا ہے کہ یہ نشانات اسلام کے سچا ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی دلیل ہیں لیکن مسلمان ہو کر خدا کو رہنما بنانے کی بجائے، اس سے ہدایت کا راستہ پوچھنے کی بجائے، اکثریت ان علماء سے راستہ پوچھتی ہے جن کے بارے میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس زمانے کے فتنہ وفساد کی جڑ یہ لوگ ہیں۔پس ہمیں نئے آنے والوں کے واقعات سن کر جہاں اپنے اور ان کے ایمانوں میں ترقی کی دعا کرنی چاہئے وہاں مسلم اللہ کے متعلق بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عقل دے اور یہ زمانے کے امام کو مان کر اپنی دنیا و عاقبت سنوار نے والے بن سکیں۔اس وقت مسلم دنیا کی حالت قابل رحم ہے۔لیڈ ر عوام پر ظلم کر رہے ہیں۔عوام انصاف اور رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے لیڈروں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ہر مفاد پرست لیڈر بن کر اپنا گروہ بنا کر بیٹھا ہوا ہے۔مختلف فرقے ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔پہلے اگر شیعہ سنی فساد ہوتے تھے تو حکومتیں کنٹرول کر کے امن قائم کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔اب حکومتیں ہی فرقہ واریت کی جنگ میں ملوث ہو گئی ہیں۔عراق، شام، لیبیا کے حالات تو گزشتہ سالوں سے بد سے بدتر ہوہی رہے ہیں اب سعودی عرب اور یمن کے جو حالات ہیں وہ بھی بگڑتے جارہے ہیں۔سعودی عرب یمن کی مدد کے بہانے جنگ میں کود پڑا ہے اور یہ حالات بھی بد سے بدتر ہو رہے ہیں اور اب پتا نہیں کہاں جا کے یہ رکیں گے۔اس جنگ کے وسیع تر ہونے کا بہت بڑا خطرہ ہے۔طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کو جس طرح کمزور کرنا چاہتی