خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 222
خطبات مسرور جلد 13 222 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء سفراختیار کیا۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو نو مبائعین کے ایمانوں کو اس حد تک ترقی دے رہا ہے۔پھر ہمارے ایک مبلغ سلسلہ لنگی سے لکھتے ہیں کہ لنگی ریجن میں پچھلے سال ایک گاؤں کے افراد کو تبلیغ کی جس کے نتیجے میں ان افراد نے جماعت احمدیہ کو قبول کرنا چاہا لیکن ایک غیر از جماعت امام جو سعودی عرب سے پڑھ کر آئے تھے اور علاقے میں بڑی شہرت رکھتے ہیں انہوں نے لوگوں کے پاس جا کر جماعت کے خلاف باتیں کیں جس کی وجہ سے اس گاؤں کے لوگوں نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ سیرالیون پر ان کو بلایا گیا تو اس امام کو بھی جلسے میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔یہ امام صاحب جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے۔جلسے کی کارروائی دیکھتے رہے۔جلسے کے دوسرے دن رات کے وقت اپنے علاقے کے چند لوگوں کے ساتھ یہ مبلغ کے پاس آئے اور سب کی موجودگی میں کہنے لگے کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ سچی ہے اور اب میں کبھی بھی جماعت کی مخالفت نہیں کروں گا بلکہ ان لوگوں کو جو بیعت کرنا چاہتے ہیں کہوں گا کہ بیعت کر لیں۔تو ایسے بھی بعض صاف فطرت، نیک فطرت علماء ہیں۔صرف وہی نہیں ہیں جو لوگوں کے ایمانوں کو بگاڑنے والے ہوں۔ہمارے حافظ محمد صاحب اٹلی کے ہیں۔انہوں نے کہا بیر سے ایم ٹی اے پر لائیو نشر ہونے والے جو پروگرام ہوتے ہیں ان کو دیکھنے کے بعد کہا کہ میں عرصہ چھ ماہ سے اپنے دل میں بیعت کر چکا ہوں۔خدا تعالیٰ اس پر گواہ ہے لیکن ابھی تک فارم بھر کر نہیں بھیج سکا۔میں تن تنہار ہتا ہوں۔میری خوشی کا کوئی انتہا نہیں کہ میں نے حق کو پہچان لیا۔امام مہدی علیہ السلام کی صداقت کے لئے میں بذات خود ایک نشان ہوں۔وہ اس طرح ہے کہ سال 2008ء میں پہلی بارا چانک میں نے ایم ٹی اے دیکھا جس میں ناسخ منسوخ کے او پر گفتگو چل رہی تھی اس وقت مجھے آپ لوگوں کے بارے میں یا امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔پروگرام اچھا لگا اور دیکھتا چلا گیا۔اس کے بعد جنوں کی حقیقت کے موضوع پر الحوار المباشر کا پروگرام دیکھا۔اس پروگرام کے ذریعہ سے میں نے اس جماعت کی صداقت پر اعتراف کر لیا اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور کہتے ہیں اس کے بعد چھ مہینے قبل 2013ء میں حضرت مسیح کی صلیبی موت سے رہائی اور ان کی وفات کے اوپر پروگرام دیکھ کر اس قدر تسلی ہوئی کہ بیعت کئے بغیر رہ نہیں سکا اور اب اس پروگرام کے ذریعہ اپنی بیعت کا اعلان کرتا ہوں۔پھرالجزائر سے عبدالحکیم صاحب کہتے ہیں۔میں نوے کی دہائی میں سول ڈیفنس اسکواڈ میں شامل ہوا کیونکہ ملک میں مذہبی جماعتیں اسلام کے نام پر ملک میں دہشتگردی پھیلا رہی تھیں اور لوگوں کو قتل کر کے