خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 221
خطبات مسرور جلد 13 221 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء مسلسل رابطے کے نتیجے میں سارا گاؤں اور مزید دیہات بھی احمدی ہو گئے۔کہتے ہیں اتنی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا خیال تھا کہ یہاں باقاعدہ جماعت کا قیام کیا جائے۔ہم جماعتی نظام کے قیام کے لئے وہاں پہنچے تو احباب جماعت پہلے سے ہمارے منتظر تھے جن میں وہاں کی جامع مسجد کے امام بھی تھے جو کہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو چکے تھے۔جب ہم نے انہیں بتایا کہ اب ہم یہاں با قاعدہ جماعت کا قیام کرنا چاہتے ہیں تو گاؤں کے چیف نے کہا ہمارا مال و اسباب اور سب کچھ حاضر ہے اور یہ بڑی مسجد آپ کی ہے بلکہ سارا گاؤں آپ کا ہے اور کہنے لگے ہم تو اتنے خوش ہیں کہ احمدیت اور حقیقی اسلام کو قبول کر کے ہم نے اپنی زندگی میں اس نعمت کو پالیا ہے جو انتہائی قیمتی ہے اور اب ہماری آنکھیں کھلی ہیں اور ہمیں حقیقی اسلام کا چہرہ نظر آیا ہے۔کانگو کے امیر صاحب بھی لکھتے ہیں کہ ایک دور دراز علاقے کو بوتو (Lubutu) میں جماعت کا پیغام ایک پمفلٹ کے ذریعہ پہنچا۔ان لوگوں نے پمفلٹ پر دیئے گئے ای میل ایڈریس کے ذریعہ جماعتی مرکز سے رابطہ کیا۔چنانچہ لوکل مبلغ مصطفی محمود صاحب کو ان کے پاس بھجوایا گیا۔انہوں نے وہاں تین ماہ قیام کر کے جماعت کا پیغام دیا۔اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ان کو جماعت کا پیغام دیا۔سنی مسلمانوں اور عیسائیوں سے کئی روز مجالس سوال و جواب ہوئیں۔وہ کہتے ہیں الحمد للہ کہ اللہ کے فضل سے وہاں جماعت قائم ہو چکی ہے اور ساٹھ سے زائد افراد احمدیت میں داخل ہو گئے۔اس جماعت کے بعض لوگ اخلاص میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ جماعت کے ایک فرد جون 2014ء میں جلسے کے لئے آئے اور کشتی پر چھ سوکلومیٹر کا سفر طے کر کے شامل ہوئے۔اب یہاں یورپ میں رہنے والوں، ترقی یافتہ ملکوں میں رہنے والوں کو اندازہ نہیں کہ چھ سوکلومیٹر کا سفر کتنا مشکل ہوتا ہے۔وہ کہہ دیں گے کہ چھ گھنٹے میں طے ہو گیا۔جہاں سڑکیں نہ ہوں،سواری نہ ہو وہاں انتہائی مشکل ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ یہاں کانگو میں تو دریاؤں کی زیادتی کی وجہ سے بہت جگہوں پر سڑکیں ہی نہیں ہیں۔کشتیوں پر سفر کرنا پڑتا ہے۔تو تین سوکلومیٹر کا سفر انہوں نے کشتی کے ذریعے سے کیا اور پھر باقی تین سوکلومیٹر کاسفر جو خشکی کا تھا اس کے لئے ان کے پاس کرائے کی رقم نہیں تھی۔ان کا کوئی دوست مل گیا۔اس سے انہوں نے سائیکل ادھاری لی اور ایک ٹوٹی سائیکل پر یہ انتہائی تکلیف دہ سفر انہوں نے کیا جس کا تصور بھی یورپ میں رہنے والوں کو ہلا کے رکھ دے۔شاید آپ لوگوں میں تصور پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔مبلغ کہتے ہیں اگر اس سائیکل کی حالت دیکھی جائے تو یقین کرنا مشکل ہے کہ اس نے کس طرح ٹوٹی پھوٹی سائیکل پے اتنا لمبا