خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 219
خطبات مسرور جلد 13 219 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء سکون ملا ہے جس کی برسوں سے مجھے تلاش تھی۔بین تینکو ریجن کے مبلغ کہتے ہیں کہ کافی عرصہ پہلے جب یہاں مسجد تعمیر ہو رہی تھی تو وہاں سے ایک عیسائی پادری کا گزر ہوا۔خوبصورت مسجد کی تعمیر دیکھ کر تعریف کی اور پوچھا کہ یہ کس کی مسجد ہے تو وہاں موجود معلم اسحاق صاحب نے کہا کہ احمدیوں کی مسجد بن رہی ہے اور ہم سب احمدی ہیں۔عیسائی پادری نے کہا کہ میں سوالو (Savalou) شہر میں کافی عرصہ رہا ہوں۔وہاں احمدیوں کی تبلیغ سنے کا موقع ملا ہے اور یہ سچے لوگ ہیں۔آپ لوگوں نے صحیح مذہب چنا ہے اور اب اس کی بہترین رنگ میں پیروی کریں۔اس پر ہمارے معلم نے پوچھا کہ اگر آپ کے نزدیک یہ بچے ہیں تو پھر آپ ان میں شامل کیوں نہیں ہو جاتے؟ اس پر پادری نے کہا کہ احمدیت یعنی اسلام یقینا سچا مذہب ہے۔آپ اس مذہب میں رہیں اور میں جس جگہ ہوں مجبوریوں کی وجہ سے ہوں۔لیکن حقیقت یہی ہے کہ تم لوگ درست ہو۔لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کو دنیا کا خوف نہیں ، مجبوریاں نہیں اور پھر خدا تعالیٰ ان کے دل بھی کھولتا ہے۔کانگو کے ایک عیسائی پادری نے احمدیت قبول کی اور ان میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی۔وہ کہنے لگے کہ میں نے سالہا سال بطور پادری کام کیا ہے اور لوگوں کو مذہبی تعلیم دی ہے لیکن جو دل کو تسلی اور خدا تعالیٰ کا قرب پانے کا احساس احمدیت میں ہوا ہے اس سے قبل کبھی نہیں ہوا تھا۔اب احمدیت ہی میرا سب کچھ ہے۔جماعتی ماحول میں بچوں کو لانا بہت ضروری ہے الجزائر کے ایک دوست اپنے خاندان کے احمدیت میں داخل ہونے کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک شیخ ان کے گھر آئے ہیں اور ان کے بچوں کو اسلام کی نیک تعلیم دے رہے ہیں جس سے ان کے گھر میں بہت نیک اثر پڑا ہے اور گھر میں اس شخص کی بہت عقیدت پیدا ہوگئی ہے۔ان کی والدہ لکھتی ہیں کہ ایک دن ان کی بیٹی ٹی وی دیکھ رہی تھی اور مختلف سٹیشنز تبدیل کر رہی تھی کہ اچانک ایم ٹی اے پر جا کر رک گئی۔کہتی ہیں اس وقت وہاں ایم ٹی اے پر میری تصویر آ رہی تھی تو وہ تصویر دیکھ کر خوشی سے اچھلی اور کہنے لگی کہ یہ وہی شخص ہے جس کو میں نے خواب میں دیکھا۔اس کے بعد انہوں نے باقاعدگی سے ایم ٹی اے دیکھنا شروع کیا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ امام مہدی جس کا زمانہ منتظر ہے تشریف لاچکے ہیں اور اس طرح انہوں نے نومبر 2013ء میں بیعت کی اور جماعت میں داخل ہو گئے۔بیعت کے بعد وہ لکھتی ہیں کہ وہ تمام دکھ اور پریشانیاں جو مجھے تھیں احمدیت میں داخل ہونے کی وجہ سے خوشیوں میں بدل گئیں۔اس غلط معاشرے کی وجہ سے جو اولاد کی تربیت کا ڈر تھا جماعتی ماحول اور