خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 215 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 215

خطبات مسرور جلد 13 215 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اپریل 2015ء اللہ کے فضلوں کے کچھ واقعات اس وقت میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے کچھ واقعات پیش کرتا ہوں کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کس طرح فضل فرماتا ہے۔کس طرح لوگوں کے دلوں کو کھولتا ہے۔کس طرح ان تک احمدیت کا پیغام پہنچتا ہے۔ہمارے نائیجر کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ ایک تبلیغی دورے کے دوران ایک کچا راستہ پکڑا اور اس پر تبلیغ کرتے ہوئے آگے روانہ رہے۔تین دن کے بعد اسی راستے سے واپسی پر ایک جگہ، ایک گاؤں گیڑاں عیدی (Gidan Idee) ہے وہاں سے گزر رہے تھے تو لوگوں نے ہمیں روک لیا اور کہا کہ ہم سب آپ کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔آپ ابھی امام صاحب کے پاس چلیں۔جب ہم امام کے پاس گئے تو انہوں نے بتایا کہ آپ ہمیں ابھی بیعت فارم دیں۔ہم سب بیعت کرنا چاہتے ہیں۔کہتے ہیں میں نے انہیں سمجھایا کہ بیعت کے لئے جلدی نہ کریں۔امام صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری تسلی کرا دی ہے۔اس لئے ہمیں جماعت کی سچائی میں اب کوئی شک نہیں رہا۔تسلی کس طرح اللہ تعالیٰ نے کرائی؟ اس کا واقعہ انہوں نے یہ سنایا کہ یہاں سے جب آپ گزرے تھے تو آپ کے جانے کے بعد مارا دی شہر کے وہابیوں کے بڑے امام صاحب اپنے قافلے کے ساتھ یہاں آئے اور یہ کہتے رہے کہ احمدی تو کافر ہیں اور تم لوگوں نے کافروں کو اپنی مسجد میں گھنے دیا اور تبلیغ کی اجازت دی۔ایسا کیوں کیا۔جس پر گاؤں کے امام صاحب نے ان سے کہا کہ یہی فرق ہے آپ میں اور احمدیوں میں۔آپ جب سے یہاں آئے ہیں آپ نے کافر کے سوا کوئی بات نہیں کی اور وہ یعنی احمدی جب تک یہاں رہے انہوں نے قرآن کریم اور حدیث کے سوا کوئی بات نہیں کی۔اگر احمدیوں کی یہی بات کفر ہے تو ہمیں ان کا یہ کفر پسند ہے اور ہم ایسے ہی کافر بننا چاہتے ہیں۔اس پر وہابیوں کا یہ بڑا مولوی نا مراد ہو کر وہاں سے واپس چلا گیا اور گاؤں والوں کا ہمارے مربی کو ، مبلغ کو اصرار تھا کہ بیعت فارم دے کے جائیں جو اس وقت تو نہیں تھے۔بہر حال وہاں بیعتیں ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بڑی جماعت قائم ہو گئی۔پھر تنزانیہ سے طبورا کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ یہاں ایک بڑی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔یہ جماعت طبورا شہر سے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔اس جگہ جماعت کا قیام ایک احمدی دوست سلیمان جمعہ صاحب کے ذریعہ سے ہوا۔موصوف وہاں تبلیغ کے لئے جاتے تھے اور پمفلٹ تقسیم کرتے تھے۔پھر اس پر کچھ افراد نے بیعت کر لی۔اس کے بعد معلم سلسلہ نے بار بار اور مسلسل وہاں دورہ کر کے تبلیغ کی جس پر کچھ اور افراد نے بیعت کی اور اللہ کے فضل سے اب وہاں تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔افراد جماعت