خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 206
خطبات مسرور جلد 13 206 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء میں آئی ہوئی ہے بلکہ افریقہ میں تو بعض ملکوں میں بعض اہم وزارتوں پر بھی احمدی فائز ہیں تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ایک فضل ہے۔کس طرح اللہ تعالیٰ ترقی دے رہا ہے۔ابتدائی احمدیوں پر سختیوں اور پھر بہت ابتدائی زمانے میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : ”یہ وہ زمانہ تھا جبکہ احمدی جماعت پر چاروں طرف سے سختی کی جاتی تھی۔”مولویوں نے فتویٰ دے دیا کہ احمدیوں کو قتل کر دینا، ان کے گھروں کولوٹ لینا، ان کی جائیدادوں کو چھین لینا، ان کی عورتوں کا بلا طلاق دوسری جگہ پر نکاح کر دینا جائز ہی نہیں موجب ثواب ہے۔“ ( اور یہ چیز تو آج بھی ہے لیکن اس زمانے میں تو بہت غریب لوگ تھے اور بڑی سختی کی جاتی تھی تو یہ رویہ تو مولویوں میں ہمیشہ سے رہا ہے اور آج تک قائم ہے لیکن بہر حال اس زمانے میں سختی کی شدت بھی بہت تھی کیونکہ جماعت بہت تھوڑی تھی۔فرماتے ہیں کہ ) اور شریر اور بدمعاش لوگوں نے جو اپنی طمع اور حرص کے اظہار کے لئے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اس فتوے پر عمل کرنا شروع کر دیا ( کہ بغیر نکاح کے عورتوں کو جائز کر لیا۔یعنی احمدیوں سے طلاق دلوا کر اپنے سے نکاح کروالیا۔آپ فرماتے ہیں کہ ) ”احمدی گھروں سے نکالے اور ملا زمتوں سے برطرف کئے جا رہے تھے۔(احمدی گھروں سے نکالے جارہے تھے اور ملازمتوں سے برطرف کئے جارہے تھے۔ان کی جائدادوں پر جبراً قبضہ کیا جاتا تھا اور کئی لوگ ان مخمصوں سے خلاصی کی کوئی صورت نہ پا کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور چونکہ ہجرت کی جگہ ان کے لئے قادیان ہی تھی ، ان کے قادیان آنے پر مہمان داری کے اخراجات اور بھی ترقی کر گئے تھے، بڑھ گئے تھے۔) اس وقت جماعت ایک دو ہزار آدمیوں تک ترقی کر چکی تھی مگر ان میں سے ہر ایک دشمنوں کے حملوں کا شکار ہو رہا تھا۔جماعت کی تعداد ایک دو ہزار تک پہنچ گئی تھی لیکن ہر ایک دشمن کے حملوں کا شکار تھا۔ایک دو ہزار آدمی جو ہر وقت اپنی جان اور اپنی عزت اور اپنی جائیداد اور اپنے مال کی حفاظت کی فکر میں لگے ہوئے ہوں اور رات دن لوگوں کے ساتھ مباحثوں اور جھگڑوں میں مشغول ہوں ان کا تمام دنیا میں اشاعت اسلام کے لئے روپیہ بہم پہنچانا اور دین سیکھنے کی غرض سے قادیان آنے والوں کی مہمان داری کا بوجھ اٹھانا اور پھر اپنے مظلوم مہاجر بھائیوں کے اخراجات برداشت کرنا ایک حیرت انگیز بات ہے۔( یہ تاریخ بھی ہمیں پتا ہونی چاہئے۔کوئی معمولی بات نہیں ہے۔) سینکڑوں آدمی دونوں وقت جماعت کے دستر خوان پر کھانا کھاتے تھے اور بعض غرباء کی دوسری ضروریات کا بھی انتظام کرنا پڑتا تھا۔ہجرت کر کے آنے والوں کی کثرت اور مہمانوں کی زیادتی سے مہمان خانے کے علاوہ ہر ایک گھر 66