خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 205

خطبات مسرور جلد 13 205 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء جاتی ہیں۔پھر مدرسہ احمدیہ بھی قائم ہوا اور کالج بھی۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے مدرسہ احمد یہ میں بھی میری گزشتہ تحریک کے ماتحت طلباء بڑھنے شروع ہو گئے ہیں اور پچیس تیس طلباء ہر سال آنے شروع ہو گئے ہیں۔اگر یہ سلسلہ بڑھتا رہا تو مدرسہ احمدیہ اور کالج کے طلباء کی تعداد بھی چھ سات سو تک یا اس سے زیادہ تک پہنچ جائے گی اور اس طرح ہمیں سو مبلغ ہر سال مل جائے گا۔جب تک ہم اتنے مبلغین ہر سال حاصل نہ کریں ہم دنیا میں صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔“ ( یعنی یہ کم از کم تھا۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں میں ہورہے ہیں۔) 1944ء میں میں نے کالج کی بنیاد رکھی تھی کیونکہ اب وقت آگیا تھا کہ ہماری آئندہ نسل کی اعلی تعلیم ہمارے ہاتھ میں ہو۔ایک زمانہ وہ تھا کہ ہماری جماعت میں بہت چھوٹے عہدوں اور بہت چھوٹی آمد نیوں والے لوگ شامل تھے۔( بیشک اس سے جماعت کی تاریخ کا بھی پتا لگتا ہے کہ ”بیشک کچھ لوگ کالجوں میں سے احمدی ہو کر جماعت میں شامل ہوئے لیکن وہ حادثہ کے طور پر سمجھے جاتے تھے ورنہ اعلیٰ مرتبوں والے اور اعلیٰ آمد نیوں والے لوگ ہماری جماعت میں نہیں تھے سوائے چند محدودلوگوں کے۔ایک تاجر سیٹھ عبدالرحمن حاجی اللہ رکھا صاحب مدراسی تھے لیکن ان کی تجارت ٹوٹ گئی۔ان کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب ہوئے۔ان کے سوا کوئی بھی بڑا تاجر ہماری جماعت میں نہیں تھا اور نہ کوئی بڑا عہد یدار ہماری جماعت میں شامل تھا یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول ایک دفعہ مجھے فرمانے لگے۔دیکھو میاں! قرآن کریم اور احادیث سے پتا لگتا ہے کہ انبیاء پر ابتداء میں بڑے لوگ ایمان نہیں لائے۔چنانچہ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک ثبوت ہے کہ ہماری جماعت میں کوئی بڑا آدمی شامل نہیں۔چنانچہ کوئی ای۔اے سی ہماری جماعت میں داخل نہیں۔گو یا اس وقت کے لحاظ سے ای۔اے۔سی ( یہ گورنمنٹ سروس کے جو اسسٹنٹ کمشنر ہیں ان کو شاید کہتے ہیں۔) بہت بڑا آدمی ہوتا تھا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں مگر دیکھو اب کئی ای۔اے۔سی یہاں گلیوں میں پھرتے ہیں اور ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔لیکن ایک وقت میں اعلیٰ طبقے کے لوگوں کا ہماری جماعت میں اس قدر فقدان تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ ہماری جماعت میں کوئی بڑا آدمی داخل نہیں۔چنانچہ کوئی ای اے سی ہماری جماعت میں داخل نہیں۔گویا اس وقت کے لحاظ سے ہماری جماعت ای۔اے سی کو بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔“ (خطبات محمود جلد 27 صفحہ 150 تا 153) آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں سینکڑوں سکول اور کالج جماعت کے چل رہے ہیں اور آج دنیا کے مختلف ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے ماہرین اور افسران بھی جماعت میں شامل ہیں۔ملکی پارلیمنٹوں کے ممبر احمدی ہیں اور اخلاص میں بھی بڑھے ہوئے ہیں۔یہ نہیں کہ صرف دنیا داری ان