خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 204
خطبات مسرور جلد 13 204 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء جو میاں عبداللہ صاحب حجام کے والد تھے وہ بھی اسی سکول میں پڑھا کرتے تھے لیکن وہ بڑی جماعت میں تھے اور میں پہلی جماعت میں تھا۔میں کھانا کھانے بیٹھا تو وہ بھی آپہنچے اور دیکھ کر کہنے لگے۔” ہیں ماس کھاندے او ماس“۔حالانکہ وہ مسلمان تھے۔اس کی یہی وجہ تھی کہ آریہ ماسٹر سکھلاتے تھے کہ گوشت خوری ظلم ہے اور بہت بری چیز ہے۔ماس کا لفظ میں نے پہلی دفعہ ان سے سنا تھا۔اس لئے میں سمجھ نہ سکا کہ ماس سے مراد گوشت ہے۔چنانچہ میں نے کہا یہ ماس تو نہیں کلیجی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماس گوشت کو ہی کہتے ہیں۔پس میں نے ماس کا لفظ پہلی دفعہ ان کی زبان سے سنا اور ایسی شکل میں سنا کہ گویا ماس خوری بری ہوتی ہے اور اس سے بچنا چاہئے۔غرض آریہ مدرس اس قسم کے اعتراضات کرتے رہتے اور لڑ کے گھروں میں آ آکر بتاتے کہ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں۔آخر یہ معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا جس طرح بھی ہو سکے جماعت کو قربانی کر کے ایک پرائمری سکول قائم کر دینا چاہئے۔چنانچہ پرائمری سکول کھل گیا اور یہ سمجھا گیا کہ ہماری جماعت نے انتہائی مقصد حاصل کر لیا۔اس عرصہ میں ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب مرحوم مغفور ہجرت کر کے قادیان آگئے۔انہیں سکولوں کا بڑا شوق تھا۔چنانچہ انہوں نے مالیر کوٹلہ میں بھی ایک مڈل سکول قائم کیا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس ( سکول ) کو مڈل کر دیا جائے ( یعنی قادیان والے کو )۔میں وہاں سکول کو بند کر دوں گا اور وہ امداد یہاں دے دیا کروں گا۔چنانچہ قادیان میں مڈل سکول ہو گیا۔پھر بعد میں کچھ نواب محمدعلی صاحب اور کچھ حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ تعالی عنہ کے شوق کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ یہاں ہائی سکول کھولا جائے۔چنانچہ پھر یہاں ہائی سکول کھول دیا گیا۔لیکن یہ ہائی سکول پہلے نام کا تھا کیونکہ اکثر پڑھانے والے انٹرنس (Entrance) پاس تھے اور بعض شاید انٹرنس فیل بھی لیکن بہر حال ہائی سکول کا نام ہو گیا۔زیادہ خرچ کرنے کی جماعت میں طاقت نہ تھی اور نہ ہی یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا مگر آخر وہ وقت بھی آگیا کہ گورنمنٹ نے اس بات پر خاص زور دینا شروع کیا کہ سکول اور بورڈنگ بنائے جائیں نیز یہ کہ سکول اور بورڈنگ بنانے والوں کو امداد دی جائے گی۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کے عہد خلافت میں یہ سکول بھی بنا اور بورڈنگ بھی۔پھر آہستہ آہستہ عملہ میں اصلاح شروع ہوئی اور طلباء بڑھنے لگے۔پہلے ڈیڑھ سو تھے، پھر تین چار سو ہوئے ، پھر سات آٹھ سو ہو گئے اور مدتوں تک یہ تعداد رہی۔اب تین چار سالوں میں آٹھ سو سے ایک دم ترقی کر کے سکول کے لڑکوں کی تعدا دسترہ سو ہوگئی ہے اور میں نے سنا ہے کہ ہزار سے اوپر لڑکیاں ہو گئی ہیں۔گویا لڑکے اور لڑکیاں کی تعداد ملا کر قریباً تین ہزار بن