خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 203
خطبات مسرور جلد 13 203 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 مارچ2015ء لیا کرو، اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر چالبازی سے بھی کام لے لیا کرو، اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر غیبت اور چغلی سے بھی کبھی کبھی فائدہ اٹھا لیا کرو اور پھر یہ امید رکھو کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو جائے تو یا درکھو تمہیں ہرگز وہ کامیابی حاصل نہیں ہو گی جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام سے فرمایا ہے۔یہ چیزیں دنیا کی انجمنوں میں بیشک کام آیا کرتی ہیں۔“ ( دھوکہ بھی ، فریب بھی، غیبت بھی ، چغلی بھی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا بھی ) ”مگر دین میں ان کی وجہ سے برکت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی لعنت اترا کرتی ہے۔“ خطبات محمودجلد 19 صفحہ 688-686_الفضل 27 ستمبر 1938 صفحہ 3) اس لئے تمام اعلیٰ اخلاق ، روحانیت میں ترقی ، یہ چیزیں دینی جماعتوں میں ہونی چاہئیں۔پس ہر احمدی کو اپنے ایمانداری کے معیاروں کو ، روحانیت کے معیاروں کو بہت بلند کرنے کی ضرورت ہے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قیام کا پس منظر پھر ایک واقعہ آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قیام کا پس منظر اور ضرورت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک وہ زمانہ تھا جب تعلیم الاسلام کالج کا آغاز ہوا۔اس وقت یہ سوچ ہو رہی تھی کہ اتنے لاکھ روپیہ میں فوری طور پر چاہئے اور اتنے لاکھ سالانہ آمد چاہئے تا کہ کالج جاری رکھا جائے اور بڑے بڑے منصوبے لاکھوں میں بن رہے تھے۔تو اس وقت آپ فرماتے ہیں کہ : ” ایک وہ زمانہ تھا کہ ہمارے لئے ہائی کلاسز کو جاری کرنا بھی مشکل تھا۔یہاں ( قادیان میں ) آریوں کا مڈل سکول ہوا کرتا تھا۔شروع شروع میں اس میں ہمارے لڑکے جانے شروع ہوئے تو آریہ ماسٹروں نے ان کے سامنے کچر دینے شروع کئے کہ تم کو گوشت نہیں کھانا چاہئے۔(ہندو گوشت نہیں کھاتے۔) ” گوشت کھانا ظلم ہے۔وہ اس قسم کے اعتراضات کرتے جو کہ اسلام پر حملہ تھے۔لڑکے سکول سے آتے اور یہ اعتراضات بتلاتے۔“ (فرماتے ہیں کہ یہاں ( قادیان میں ) ایک پرائمری سکول تھا اس میں بھی اکثر آریہ مدرس ( ٹیچر ) آیا کرتے اور یہی باتیں سکھلایا کرتے تھے۔پہلے دن جب میں سرکاری پرائمری سکول میں پڑھنے گیا ( یعنی حضرت مصلح موعود اپنا بیان فرمارہے ہیں کہ جب میں اس سرکاری پرائمری سکول میں پڑھنے گیا) اور دو پہر کو میرا کھانا آیا تو میں سکول سے باہر نکل کر ایک درخت کے نیچے جو پاس ہی تھا کھانا کھانے کے لئے جا بیٹھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ اس روز کلیجی کی تھی اور وہی میرے کھانے میں بھجوائی گئی۔اس وقت میاں عمر دین صاحب مرحوم