خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 4
خطبات مسرور جلد 13 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء صرف ایک دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ جھوٹ اور شرک کو اللہ تعالیٰ نے اکٹھا کر کے بیان فرمایا ہے۔پھر اسی طرح بعض benefits لینے کے لئے غلط بیانی کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”جھوٹ بھی ایک بت ہے جس پر یہ بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 361) پس اس باریکی سے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔پھر فرمایا یہ عہد کرو کہ زنا سے بچو گے۔ٹی وی انٹرنیٹ کے منفی پہلو (ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 563) حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 342) وقوع کا اندیشہ ہو۔“ اب آجکل ٹی وی ہے، انٹرنیٹ ہے اس پر ایسی بیہودہ فلمیں چلتی ہیں یا کھولنے سے نکل آتی ہیں جو نظر کا بھی زنا ہے، خیالات کا بھی زنا ہے، پھر برائیوں میں مبتلا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔گھروں کے ٹوٹنے کی وجہ ہے۔کئی عورتیں اور لڑکیاں اپنے خاوندوں کے بارے میں لکھتی ہیں کہ سارا دن انٹرنیٹ پر بیٹھے رہتے ہیں اور بیٹھ کر گندی فلمیں دیکھتے ہیں۔بعض مرد بھی اپنی بیویوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔اور پھر نتیجہ خلع اور طلاق تک نوبت آ جاتی ہے۔یا انہی فلموں کی وجہ سے جانوروں سے بھی زیادہ بدترین بن جاتے ہیں۔احمدی معاشرہ عموماً تو اس سے بچا ہوا ہے۔شاذ و نادر کے سوا کوئی ایسے واقعات نہیں ہوتے لیکن اگر اس معاشرے میں رہتے ہوئے اس گند سے اپنے آپ کو بچانے کی بھر پور کوشش نہ کی تو پھر کسی پاکیزگی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔پس اس بارے میں بھی بہت فکر سے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔پھر ایک عہد ہم سے یہ لیا کہ بد نظری سے بچوں گا۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 563) اس لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں غض بصر کا حکم دیا ہے تا کہ بدنظری کا موقع ہی پیدا نہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو دیکھنے کی بجائے جھک جاتی ہے۔(سنن الدارمی، کتاب الجهاد، باب في الذى يسهر۔۔۔الخ حدیث 2404 صفحه 773 مطبوعه دارالمعرفة بيروت 2000ء)