خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 199
خطبات مسرور جلد 13 199 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء ٹارگٹ بھی دیا تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں ہونا چاہئے جس سے اسلام کی خوبصورت تعلیم کا بھی دنیا کو پتا لگے۔دنیا کو یہ پیغام ملے کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے۔دنیا کو پیغام ملے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیج کر پھر سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ فرمائی ہے اور حقیقی تعلیم کو جاری فرمایا ہے۔یہ دنیا کو پتا لگے کہ اب بھی خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان سے بچانے کے لئے اپنے فرستادوں کو بھیجتا ہے۔بہر حال جن جماعتوں نے اس سلسلے میں کام کیا وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے مثبت نتائج نکلے ہیں۔سپین میں جامعہ کے طلباء کو میں نے بھیجا تھا انہوں نے وہاں بڑا کام کیا اور تقریباً تین لاکھ کے قریب مختلف پمفلٹ تقسیم کئے۔اسی طرح اب جامعہ کینیڈا کے طلباء نے سپینش ممالک میں اور میکسیکو میں جا کر یہ اشتہارات تقسیم کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سے تبلیغ کے میدان بھی بڑے وسیع ہوئے ہیں اور بیعتیں بھی ہوئی ہیں۔پس اس کے لئے ایک کے بعد دوسرا دو ورقہ شائع ہوتے رہنا چاہئے اور اس کو تقسیم کرتے چلے جانا چاہئے بجائے اس کے کہ بڑی بڑی کتاب میں تقسیم کی جائیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اشتہارات کی اشاعت کے بارے میں ہی کہ کس طرح ہونی چاہئے ، اظہار خیال فرماتے ہوئے ایک جگہ ضمنا یہ بھی فرمایا کہ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ خود ہی اشتہار شائع کریں۔اُس زمانے میں بھی چاہتے تھے۔اب بھی گو اس تعداد میں تو نہیں کر سکتے لیکن بہر حال اپنے طور پر کچھ نہ کچھ لوگ چاہتے ہیں۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ : چاہئے یہ کہ جو اشتہارات مرکز سے شائع کئے جائیں انہیں تقسیم کیا جائے اور ان کی اشاعت بڑھائی جائے۔خود اشتہارات شائع کرنے میں بعض اوقات خود پسندی بھی آجاتی ہے کہ میرا نام بھی نکلے اور یہ ایسا سخت مرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے متعلق ایک قصہ بیان فرمایا کرتے تھے ( یعنی خود پسندی یا اپنا اظہار کرنے کا، اپنی پروجیکشن (projection) کا بعض لوگوں کو شوق ہوتا ہے۔اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک قصہ بیان فرماتے تھے کہ ) ایک عورت تھی اس نے انگوٹھی بنوائی مگر کسی عورت نے اس کی تعریف نہ کی۔ایک دن اس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی اور جب لوگ اکٹھے ہوئے تو کہنے لگی صرف یہ انگوٹھی بچی ہے اور کچھ نہیں بچا۔کسی نے پوچھا یہ کب بنوائی ہے؟ کہنے لگی اگر یہ کوئی پہلے پوچھ لیتا تو میرا گھر ہی کیوں جلتا۔غرض شہرت پسندی ایسا مرض ہے کہ جس کو لگ جائے اسے گھن کی طرح کھا جاتا ہے اور ایسے انسان کو پتا ہی نہیں لگتا۔“ اہم اور ضروری امور، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 340)