خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 198
خطبات مسرور جلد 13 198 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015 ء اشتہار تبلیغ کا ایک اہم ذریعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس درد اور اس کے لئے غیر معمولی محنت کے بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔باوجود بیماری کے آپ رات دن لگے رہتے تھے اور اشتہار پر اشتہار دیتے رہتے تھے۔لوگ آپ کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔ایک اشتہار دیتے تھے اس کا اثر دُور نہیں ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے مخالفت میں جو جوش پیدا ہوتا تھا وہ ابھی کم نہ ہوتا تھا کہ دوسرا اشتہار آپ شائع کر دیتے تھے۔حتی کہ بعض لوگ کہتے تھے کہ ایسے موقع پر کوئی اشتہار دینا طبائع پر برا اثر ڈالے گا مگر آپ اس کی پروانہ کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ لوہا گرم ہی کوٹا جاسکتا ہے۔اور ذرا جوش ٹھنڈا ہونے لگتا تو فوراً دوسرا اشتہار شائع فرما دیتے تھے اس کی وجہ سے پھر مخالفت کا شور بپا ہو جاتا۔آپ نے رات دن اسی طرح کام کیا اور یہی ذریعہ کامیابی کا ہے۔اگر یہ ذریعہ ہم اختیار کریں تو کامیاب ہو سکتے ہیں۔اس بات کا خیال نہ کرنا چاہئے کہ مخالفت کم ہونے دی جائے۔“ ( روزنامه الفضل قادیان مؤرخہ 9 نومبر 1943 ء صفحہ 2 جلد 31 نمبر 263) مخالفت ہوتی رہے تو ساتھ ساتھ اشتہار بھی آتے رہیں تب ہی اثر بھی ہوتا ہے۔پھر حضرت مصلح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا ہی ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے زمانے میں تبلیغ اشتہارات کے ذریعے ہوتی تھی۔وہ اشتہارات دو چار صفحات پر مشتمل ہوتے تھے اور ان سے ملک میں تہلکہ مچا دیا جاتا تھا۔ان کی کثرت سے اشاعت کی جاتی تھی۔اس زمانہ کے لحاظ سے کثرت کے معنی ایک دو ہزار کی تعداد کے ہوتے تھے۔بعض اوقات دس دس ہزار کی تعداد میں بھی اشتہارات شائع کئے جاتے تھے لیکن اب ہماری جماعت بیسیوں گنے زیادہ ہے۔اب اشتہاری پروپیگنڈا یہ ہوگا کہ اشتہارات پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں۔پھر دیکھو کہ یہ اشتہارات کس طرح لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔اگر اشتہارات پہلے سال میں بارہ دفعہ شائع ہوتے تھے اور اب خواہ سال میں تین دفعہ کر دیا جائے اور صفحات دو چار پر لے آئیں لیکن وہ لاکھ لاکھ دو دو لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں تو پتا لگ جائے گا کہ انہوں نے کس طرح حرکت پیدا کی ہے۔“ ( خطبات محمود جلد 33 صفحہ 6-5 الفضل 11 جنوری 1952ء) تین چار سال پہلے میں نے جماعتوں کو کہا تھا کہ ورقہ دو ورقہ بنا کر تبلیغ کا کام کریں اور اس کا