خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 194
خطبات مسرور جلد 13 194 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015 ء میں پیدا ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے ظہور کی بڑی علامت آج پوری ہو چکی ہے۔کہتے ہیں میں بھی جماعت میں موجود تھا۔وہ کمرہ ، وہ مقام اور لڑکوں کا حلقہ اب تک میری نظروں کے سامنے ہے۔وہ کرسی جس پر بیٹھے ہوئے مولانا نے یہ الفاظ کہے تھے ، وہ میز جس پر ہاتھ مار کر لڑکوں کو یہ خبر سنائی تھی خدا کے حضور ضرور اس بات کی شہادت دیں گے کہ مولوی صاحب موصوف پر اتمام حجت ہو چکی۔باوجود اس نشان کا اعلان کرنے کے خود قبول مہدی آخر الزماں سے محروم ہی چلے گئے۔( بھائی عبدالرحمن صاحب یہ کہتے ہیں کہ ) مہدی آخرالزمان، میرے کان ابھی تک اس نام سے نا آشنا تھے۔ان کا کسی غار میں پیدا ہونا ”ان کے ظہور کی بڑی علامت، یہ الفاظ میرے واسطے اور بھی اچنبھا تھے۔میں مڈل میں تعلیم پاتا تھا۔طبیعت میں ٹوہ کی خواہش پیدا ہوئی۔استاد سے بوجہ حجاب اور ادب نہ پوچھ سکا۔آخر ہم جماعتوں سے (اپنے کلاس فیلوز سے ) اس معمے کا حل چاہا جنہوں نے اپنے مروجہ عقیدہ اور خیال کے مطابق سارا قصہ کہہ سنایا۔میرے دل میں جو تاثرات ان قصوں کو سن کر پیدا ہوئے اور جنہوں نے میری روحانیت میں اور اضافہ کیا وہ یہ تھے۔(آٹھویں کلاس کے طالبعلم کا ذہن دیکھیں کتنا زرخیز ہے۔فرمایا کہ) نمبر ایک یہ کہ تیرہ سوسال قبل ایک واقعہ کی خبر دینا جو دوست ودشمن میں مشہور ہو چکی ہو اور پھر اس کا عین وقت کے مطابق پورا ہو جانا۔دوسری بات یہ ذہن میں آئی کہ وہ واقعہ انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ آسمان پر ہو ا جہاں انسان کی پہنچ نہیں اور نہ ہی انسان کا کسی قسم کا اس میں دخل ہے۔تیسری بات یہ آئی کہ مہدی آخر الزمان کی شخصیت، اس کا کفر کومٹانا، اسلام کو بڑھانا اور اسلامی لشکر تیار کر کے کافروں کو تلوار کے گھاٹ اتارنا اور مسلمانوں کی فتوحات کے خیالات۔چوتھی بات یہ کہ دعا اور اس کی حقیقت۔خدا کا بندوں کی دعاؤں کو سننا اور قبول کرنا کیونکہ اولیائے امت محمدیہ مہدی آخر الزمان کے لئے دعائیں کرتے رہے ہیں۔آخر وہ قبول ہوئیں۔پانچویں یہ کہ یہ باتیں اسلام کی صداقت کی واضح اور بین دلیل ہیں اور اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو خدا کو پیارا اور خدا تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔کہتے ہیں یہ پنجگانہ امورا اپنی مجمل سی کیفیت کے ساتھ میرے دل پر اثر انداز ہوئے اور اس واقعہ نے میرے ایمان میں ترقی و تازگی اور روحانیت میں اضافہ کر دیا اور میں بھی مہدی آخرالزمان کو پانے کے لئے بیتاب ہونے لگا جس کے حصول کے لئے مجھے دعاؤں کی عادت ہوگئی۔میں راتوں کو بھی جاگتا اور دن میں بھی بیقرار رہتا اور مہدی آخر الزمان کی تلاش کا خیال بعض اوقات ایسا غلبہ پا تا که با وجود