خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 192

خطبات مسرور جلد 13 192 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015 ء مٹی آنکھوں میں پڑتی تھی۔( بٹالہ سے قادیان پیدل جارہے تھے۔) قدم اچھی طرح نہیں اٹھتے تھے۔اور راستہ صرف بجلی کے چمکنے سے نظر آتا تھا۔ساتھ آپ کے اہل وطن دوست مولوی عبدالعلی صاحب بھی تھے۔( گل تین آدمی تھے۔سب نے ارادہ کیا کہ خواہ کچھ بھی ہو راتوں رات قادیان پہنچنا ہے۔(احمدیت تو قبول کر چکے تھے۔نماز کسوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ادا کرنا چاہتے تھے۔) چنانچہ تینوں نے راستے میں کھڑے ہو کر نہایت تفرع سے دعا کی کہ اے اللہ ! جو زمین و آسمان کا قادر مطلق خدا ہے ہم تیرے عاجز بندے ہیں۔تیرے مسیح کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور ہم پیدل سفر کر رہے ہیں۔سردی ہے۔تو ہی ہم پر رحم فرما۔ہمارے لئے راستہ آسان کر دے اور اس با دمخالف کو ( یعنی جو الٹی ہوا چل رہی تھی اس کو ) دُور کر۔( کہتے ہیں کہ ) ابھی آخری لفظ دعا کا منہ میں ہی تھا کہ ہوانے رُخ بدلا اور بجائے سامنے کے پشت کی طرف سے چلنے لگی اور مد سفر بن گئی۔( یعنی پیچھے سے اتنی تیز چل رہی تھی کہ ان کا سفر آسان ہو گیا۔قدم بڑے ہلکے اٹھنے لگے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہوا میں اڑے جارہے ہیں۔تھوڑی ہی دیر میں نہر پر پہنچ گئے۔اس جگہ کچھ بوندا باندی شروع ہوئی۔نہر کے( پانی کے ) پاس ایک کوٹھا تھا اس میں داخل ہو گئے۔ان ایام میں گورداسپور کے ضلع کے اکثر سڑکوں پر ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی تھیں۔دیا سلائی جلا کر دیکھا تو کوٹھا خالی تھا اور اس میں دواو پلے اور ایک موٹی اینٹ پڑی تھی۔ہر ایک نے ایک ایک سرہانے رکھی اور زمین پر سو گئے۔کچھ دیر بعد آنکھ کھلی تو ستارے نکلے ہوئے تھے آسمان صاف تھا اور بادل اور آندھی کا نام و نشان نہ تھا۔چنانچہ پھر روانہ ہوئے اور سحری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستر خوان پر کھائی۔( رمضان کا مہینہ تھا ناں یہ ) صبح حضرت اقدس کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی جو کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے مسجد مبارک کی چھت پر پڑھائی۔قریباً تین گھنٹے یہ نماز وغیرہ جاری رہی۔( نماز خطبہ وغیرہ۔) کئی دوستوں نے شیشے پر سیاہی لگائی ہوئی تھی جس میں سے وہ گرہن دیکھنے میں مشغول تھے۔ابھی خفیف سی سیاہی شیشے پر شروع ہوئی تھی (یعنی سورج کا حلقہ سا شروع ہوا تھا) کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوکسی نے کہا کہ سورج کو گرہن لگ گیا ہے۔آپ نے اس شیشے میں سے دیکھا تو نہایت ہی خفیف سی سیاہی معلوم ہوئی یعنی ابھی ہلکا سا گرہن لگنا شروع ہوا تھا۔حضور نے فرمایا کہ اس گرہن کو ہم نے تو دیکھ لیا ہے مگر یہ ایسا خفیف ہے کہ عوام کی نظر سے اوجھل رہ جائے گا اور اس طرح ایک عظیم الشان پیشگوئی کا نشان مشتبہ ہو جائے گا۔حضور علیہ السلام نے کئی بار اس کا ذکر کیا۔لیکن تھوڑی دیر بعد ہی سورج پہ جو سیا ہی تھی ، گرہن