خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 189
خطبات مسرور جلد 13 189 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015ء بد بو آ رہی تھی۔اس پر آپ نے وہ کتاب پھینک دی۔پھر دو کتابوں کو دیکھا کہ ان سے نور کے شعلے نکل رہے ہیں۔حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی بھجوائی ہوئی کتب کی وصولی پر آپ کا رؤیا اس طرح پورا ہو گیا کہ حضرت مولوی صاحب نے جو کتب آپ کو بھجوائیں ان میں ایک کتاب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کی تردید کے متعلق تھی۔آپ نے پہلے اسی کو پڑھنا شروع کیا۔جب اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق دل آزار الفاظ دیکھے تو اس کو پڑھنا ترک کر دیا اور پرے پھینک دیا اور دوسری دو کتب اور خط پڑھے تو انہیں اپنی رؤیا کے عین مطابق پایا اور آپ کو تحقیقات کی مزید تحریک ہوئی۔چنانچہ آپ نے تحقیقات کے لئے تین افراد پر مشتمل وفد قادیان بھجوایا اور ان تینوں نے قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔اور یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے جس طرح کہ روایات میں آتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ ہی ہوتا ہے کہ جب یہ وفد بٹالہ پہنچا تو مولوی محمد حسین بٹالوی نے انہیں بھی روک لیا۔کچھ خاطر مدارات بھی کی اور کہا آپ لوگ خوامخواہ کئی دنوں کے پیدل سفر کی تکالیف برداشت کر کے قادیان جاتے ہیں۔آپ چونکہ دور دراز علاقے کے رہنے والے ہیں اس لئے آپ کو علم نہیں۔مرزا صاحب کا سارا کاروبار جھوٹا ہے۔اس لئے آپ لوگ واپس چلے جائیں۔چنانچہ مولوی صاحب نے انہیں نہ صرف یہ کہا بلکہ واپس شہر کے کنارے تک، باہر تک چھوڑ کر گئے۔مگر ان سے رخصت ہونے کے بعد یہ تینوں پھر بجائے واپس جانے کے قادیان پہنچ گئے اور وہاں آ کر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کر لی۔اس کے بعد قاضی صاحب نے پہلے تحریری بیعت کی اور پھر قادیان پہنچ کر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جموں وکشمیر مرتبہ اسد اللہ قریشی صاحب صفحه 57-59) پھر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے دادا قاضی مولا بخش صاحب تحصیل نواں شہر ضلع جالندھر کے معروف اہلحدیث خطیب تھے۔جب نشان کسوف وخسوف ظاہر ہوا تو انہوں نے ایک خطبے میں رمضان المبارک کی تیرہ اور اٹھائیس تاریخ کو بالترتیب چاند گرہن اور پھر سورج گرہن کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ امام مہدی کے ظہور کا نشان ہے۔اب ہمیں انتظار کرنا چاہئے کہ امام موعود کب اور کہاں سے ظاہر ہوتا ہے؟ اس خطبے کا خاطر خواہ اثر ہوا۔چنانچہ محترم قاضی صاحب کو ( یعنی قاضی مولا بخش صاحب کو جو مولانا ابوالعطاء جالندھری کے دادا تھے ) اگر چہ خود قبول کرنے کی صورت