خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 2

خطبات مسرور جلد 13 2 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء حاصل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرے گا۔اور ہمارے لئے یہ معیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرائط بیعت میں کھول کر بیان فرما دیئے ہیں۔کہنے کو تو یہ دس شرائط بیعت ہیں لیکن ان میں ایک احمدی ہونے کے ناطے جو ذمہ داریاں ہیں ان کی تعداد موٹے طور پر بھی لیں تو تیس سے زیادہ بنتی ہے۔پس اگر ہم نے اپنے سالوں کی خوشیوں کو حقیقی رنگ میں منانا ہے تو ان باتوں کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ورنہ جو شخص احمدی کہلا کر اس بات پر خوش ہو جاتا ہے کہ میں نے وفات مسیح کے مسئلے کو مان لیا یا آنے والا مسیح جس کی پیشگوئی کی گئی تھی اس کو مان لیا اور اس پر ایمان لے آیا تو یہ کافی نہیں ہے۔بیشک یہ پہلا قدم ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے توقع رکھتے ہیں کہ ہم نیکیوں کی گہرائی میں جا کر انہیں سمجھ کر ان پر عمل کریں اور برائیوں سے اپنے آپ کو اس طرح بچائیں جیسے ایک خونخوار درندے کو دیکھ کر انسان اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔اور جب یہ ہو گا تو تب ہم نہ صرف اپنی حالتوں میں انقلاب لانے والے ہوں گے بلکہ دنیا کو بدلنے اور خدا تعالیٰ کے قریب لانے کا ذریعہ بن سکیں گے۔شرک سے بچنے کا عہد بہر حال ان باتوں کی تھوڑی سی تفصیل یاد دہانی کے طور پر آج میں بیان کروں گا۔یہ یاد دہانی انتہائی ضروری ہے۔ہماری بیعت کا مقصد ہمارے سامنے آتا رہنا چاہئے۔پہلی بات جو آپ نے ہمیں فرمائی ہے وہ شرک سے بچنے کا عہد ہے۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 563) ایک مومن جو خدا پر ایمان لانے والا ہو اور خدا پر ایمان کی وجہ سے ہی خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں زمانے کے امام کی بیعت کر رہا ہو۔ایسے شخص کا اور شرک کا تو ڈور کا بھی واسطہ نہیں ہوسکتا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مشرک اللہ تعالیٰ کی بات مانے۔لیکن نہیں جس بار یک شرک کی طرف ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام توجہ دلا رہے ہیں وہ کوئی ظاہری شرک نہیں ہے بلکہ مخفی شرک ہے جو ایک مؤمن کے ایمان کو کمزور کر دیتا ہے۔اس کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : تو حید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا إلهَ إِلَّا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں۔بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے۔ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔بت صرف وہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا