خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 176 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 176

خطبات مسرور جلد 13 176 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015 ء کی طرف کھینچتے تھے مگر ہم ان سے دشمنی اور عداوت کرتے تھے یہاں تک کہ ہم نے ان کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔آج خدا نے اپنے فضل سے ہم سب کو اکٹھا کر دیا۔“ (اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف۔انوار العلوم جلد 13 صفحہ 87،86) پس اس وجہ سے ہم جذباتی ہو کے رو رہے تھے۔پس یہ احمدیت کی برکات ہیں کہ بچھڑے ہوؤں کو اکٹھا کرتی ہے۔شیطان جن کے بیچ میں رخنہ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت پھر ان کو ملا دیتی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اب بھی ایسے نظارے ہوں گے۔مولویوں نے جو یہ غلط تاثر عامتہ المسلمین کو دیا ہوا ہے کہ حضرت مسیح ہاتھ سے پرندے بناتے تھے اور پھر ان میں جان ڈالتے تھے اور وہ عام پرندوں کی طرح اڑنے لگ جاتے تھے یہ قرآن کریم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ روحانی قابلیت کے لوگوں کو تربیت دے کر اس قابل بنا دیتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف روحانی پرواز کرنے لگ جائیں۔بہر حال ایک ایسے نظریہ رکھنے والے مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گفتگو کر رہے تھے۔تو حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ ایک مولوی سے پوچھا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح پرندے پیدا کیا کرتے تھے تو جو پرندے ہمیں دنیا میں نظر آتے ہیں ان میں سے کچھ خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہوں گے اور کچھ مسیح کے۔کیا آپ ان دونوں میں کوئی امتیازی بات بتا سکتے ہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ کون سے خدا کے پیدا کردہ ہیں اور کون سے مسیح کے۔اس پر وہ مولوی صاحب پنجابی میں بولے۔ایہہ تے بہن مشکل اے اوہ دونوں رل مل گئے نہیں۔یعنی یہ کام تو اب مشکل ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ اور مسیح کے پیدا کئے ہوئے پرندے آپس ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 96) میں مل جل گئے ہیں۔اب ان دونوں میں امتیاز مشکل ہے۔“ عیسائیوں کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کا اعتراض پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ نے عیسائیوں کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو حقیقت کچھ اور ہے۔آپ نے خود کبھی پہل نہیں کی تھی۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر کسی حد تک ان باتوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔عیسائی ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم پر حملے کیا کرتے تھے اور مسلمان چونکہ ان کے حملوں کا جواب نہیں دیا کرتے تھے۔اس لئے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کے بانی میں عیب ہی عیب ہیں۔اگر کسی میں عیب نہیں تو وہ یسوع کی ذات ہے۔وہ مسلمانوں کی شرافت