خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 168

خطبات مسرور جلد 13 168 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015ء یا بعض ایسے ہیں جو نظافت کا خیال بھی نہیں رکھتے انہیں بھی یا درکھنا چاہئے کہ نظافت ایمان کا حصہ ہے۔پس ہر معاملہ میں اعتدال ہونا چاہئے۔نہ ادھر جھکاؤ ہونہ اُدھر جھکاؤ ہو۔تبلیغ کے حوالے سے آپ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ تبلیغ پر خاص طور پر زور دیا جائے۔( دہلی آپ گئے تو کہتے ہیں ) اس دفعہ یہاں دہلی میں میرے لئے ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ اب دلّی والوں نے کج بحثی کو چھوڑ دیا ہے ورنہ اس سے پہلے جب کبھی مجھے یہاں آنے کا موقع ملا یا ) اتفاق ہوا دہلی کے ہر قسم کے لوگ مجھ سے ملنے کے لئے آیا کرتے تھے اور عجیب عجیب قسم کی بحث شروع کر دیا کرتے تھے اور کسی نے بھی کبھی معقول بات نہ کی تھی۔( فرماتے ہیں کہ ) مجھے یاد ہے میں اس وقت چھوٹا سا تھا۔میں یہاں آیا اور اپنے رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا۔حیدر آباد کے ایک رشتے کے بھائی بھی ہماری رشتے کی اس نانی کے پاس ملنے آئے تھے جن کے پاس حضرت آتاں جان ٹھہری ہوئی تھیں۔انہوں نے میری طرف اشارہ کر کے پوچھا ( اس رشتے کے بھائی نے ) کہ یہ لڑکا کون ہے؟ نانی نے کہا کہ فلاں کا لڑکا ہے۔یعنی حضرت اتاں جان کا نام لیا۔حضرت اماں جان کا نام سن کر وہ مجھے کہنے لگے کہ تمہارے ابا نے کیا شور مچا رکھا ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے خلاف کئی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔( حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ) اس وقت میری عمر چھوٹی تھی مگر بجائے اس کے کہ میں گھبراؤں کیونکہ مجھے وفات مسیح کی بحث اچھی طرح یاد تھی میں نے وفات مسیح کے متعلق بات شروع کر دی۔میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو صرف یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اس زمانے میں جو مسیح موعود اور مہدی معہود آنے والا ہے وہ اسی امت میں سے آئے گا۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) مجھے قرآن کریم کی ان آیات میں سے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى (آل عمران : 56) والی آیت یاد تھی تو میں نے اس کے متعلق سارے مضمون کو اچھی طرح کھول کر بیان کیا تو وہ بڑے حیران ہو کر کہنے لگے کہ واقعی اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں مگر یہ مولوی لوگ کیوں شور مچاتے ہیں؟ تو میں نے انہیں کہا کہ یہ بات تو پھر ان مولویوں سے پوچھئے لیکن نانی کا رد عمل کیا ہوا۔فرماتے ہیں کہ ہماری نانی نے شور مچادیا کہ تو بہ کر وہ تو بہ کرو۔اس بچے کا دماغ پہلے ہی ان باتوں کو سن کر خراب ہو اہو اتھا تم نے تصدیق کر کے اسے کفر پر پکا کر دیا۔(ماخوذ از ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے۔انوار العلوم جلد 18 صفحہ 454،453)