خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 167
خطبات مسرور جلد 13 167 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015 ء پس آج بھی ہمیں یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ لباس کوئی چیز نہیں لیکن کم از کم ہماری حالتیں ایسی ہوں کہ ہر ایک ہمیں دیکھ کے پہچان سکے کہ یہ احمدی ہے اور یہ دوسروں سے منفرد ہے۔لباس،صفائی اور سادگی لباس کا ذکر ہورہا تھا۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ایک مبلغ یا دین کے کام کرنے والے کی شکل کس طرح کی ہونی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ تبلیغ کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ مبلغ کی شکل مومنانہ ہو۔خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ پس میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان کی ظاہری شکل اسلامی شعار کے مطابق ہونی چاہئے اور انہیں اپنی داڑھیوں میں، بالوں میں اور لباس میں سادگی اختیار کرنی چاہئے۔اسلام تمہیں صاف اور نظیف لباس پہنے سے نہیں روکتا۔(صاف لباس ہو۔نفاست ہو۔اس سے نہیں روکتا۔) بلکہ وہ خود حکم دیتا ہے کہ تم ظاہری صفائی کوملحوظ رکھو اور گندگی کے قریب بھی نہ جاؤ مگر لباس میں تکلف اختیار کرنا منع ہے۔اسی طرح ( بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے اپنے کپڑوں کو دیکھتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد کوٹ کے کالرکو دیکھنا کہ اس پر گر دتو نہیں پڑ گئی۔یہ ایک لغو بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بعض لوگ اچھے اچھے کپڑے لاتے تھے اور آپ ان کپڑوں کو استعمال بھی کرتے تھے مگر کبھی لباس کی طرف ایسی توجہ نہیں فرماتے تھے کہ ہر وقت برش کروا رہے ہوں اور دل میں یہ خیال ہو کہ لباس پر کہیں گردنہ پڑ جائے۔(آپ کہتے ہیں کہ کپڑوں پر ) برش کروانا منع نہیں مگر اس پر زیادہ زور دینا اپنے وقت کا بیشتر حصہ ان باتوں پر صرف کر دینا پسندیدہ نہیں سمجھا جاسکتا۔آپ کہتے ہیں ) بعض لوگوں کو لباس کا اتنا کمپلیکس ہوتا ہے کہ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ دعوت کے موقع پر رونی شکل بنا لیتے ہیں کہ ہمارے پاس فلاں قسم کا کوٹ نہیں ہے یا فلاں قسم کا لباس نہیں ہے۔انسان کے پاس جس قسم کا بھی لباس ہو اس قسم کے لباس میں اسے دوسروں سے بڑے اعتماد سے ملنے چلے جانا چاہئے۔اصل چیز تو ننگ ڈھانکنا ہے۔( نفاست ہے۔نظافت ہے۔صفائی ہے۔) جب ننگ ڈھانکنے کا لباس موجود ہے اور اس کے باوجود کوئی شخص کسی شخص کی ملاقات سے اس لئے محروم ہو جاتا ہے کہ میرے پاس فلاں قسم کا کوٹ نہیں یا فلاں قسم کا کر یہ نہیں تو بید دین نہیں بلکہ دنیا ہے۔(ماخوذ از خدام الاحمدیہ سے خطاب۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 442،441) پس واقفین زندگی کے لئے خاص طور پر مبلغین کے لئے اور عام طور پر عمومی جماعت کے افراد کے لئے بھی اس میں نصیحت ہے کہ ظاہری رکھ رکھاؤ کی طرف اتنی توجہ نہ دیں کہ اصل مقصد پیچھے چلا جائے۔