خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 166

خطبات مسرور جلد 13 166 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 13 / مارچ 2015 ء بمطابق 13 امان 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان فرمودہ بعض باتیں بیان کروں گا جن کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے۔ان سے بہت سی سبق آموز باتیں سامنے آتی ہیں جن سے آجکل بھی اپنے راستے متعین کرنے کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔پہلا واقعہ یا پہلا بیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تبلیغ کے بارے میں جوش اور کس طرح جماعت کو دیکھنا چاہتے تھے کے متعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تبلیغ اسلام کے لئے جو جوش اور در دتھا جس کا اثر وہ اپنے جماعت کے افراد پر بھی دیکھنا چاہتے تھے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خیالات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تبلیغ سلسلہ کے لئے عجیب عجیب خیال آتے تھے اور وہ رات دن اسی فکر میں رہتے تھے کہ یہ پیغام دنیا کے ہر کونے میں پہنچ جائے۔ایک مرتبہ آپ نے تجویز کی کہ ہماری جماعت کا لباس ہی الگ ہوتا کہ ہر شخص بجائے خود ایک تبلیغ ہو سکے۔اس پر مختلف تجویزیں ہوئیں۔(ماخوذ از الفضل جلد 10 نمبر 1 صفحہ 16) یعنی یہ پہچان ہو جائے کہ یہ احمدی ہے۔اب صرف ایک علیحدہ پہچان تو کوئی چیز نہیں ہے۔یقیناً آپ کی یہی خواہش ہوگی کہ اس طرح جہاں ایک لباس دیکھ کر اور پھر عملی اور اعتقادی حالت دیکھ کر غیروں کی توجہ ہوگی وہاں خود بھی احساس رہے گا کہ میں ایک احمدی کی حیثیت سے پہچانا جاؤں گا۔اس لئے میں نے اپنی عملی اور اعتقادی حالت کو درست بھی رکھنا ہے۔