خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 164

خطبات مسرور جلد 13 164 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 مارچ2015ء ہر کام کرنے سے پہلے سوچ لو کہ۔۔مجھے یاد ہے جب میں کینیا میں دورے پر گیا ہوں تو وہاں کے ایک پرانے سیاستدان تھے جو ایک reception میں وہاں ملے۔کہنے لگے کہ میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو بھی ملا ہوں۔انہوں نے مجھے ایک نصیحت کی تھی جس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا ہے اور وہ نصیحت یہ تھی کہ تم ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچ لو کہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور اس کے پاس تمہاری تمام باتوں کا ریکارڈ بھی ہے۔اب مجھے یاد نہیں کہ مسلمان تھے یا عیسائی، غالباً عیسائی تھے۔اگر ان کو فائدہ ہوسکتا ہے تو ایک حقیقی مومن جس کو خاص طور پر خدا تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے اس کو کس قدر فائدہ ہو گا کہ اپنے کام کے انجام پر نظر ر کھے اور ہمیشہ یہ یادرکھے کہ علیم وقدیر خدا میرے ہر کام اور ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور اسی وجہ سے میں نے اپنے ہر کام کو اس کی رضا کے لئے کرنا ہے۔اگر یہ سوچ نہیں ہوگی ، خدا تعالیٰ کو بھول جاؤ گے تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاسقوں میں شمار ہو گے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں فاسق کہہ کر ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو واضح کر دیا کہ اگر تقویٰ پر نہیں چلتے۔اپنے کل کی فکر نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر نہیں چلتے تو پھر فاسقوں میں شمار ہوگا اور فاسق وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کو توڑنے والے ہیں۔جو گناہوں میں مبتلا رہنے والے ہیں۔جو اطاعت سے نکلنے والے ہیں۔جو سچائی سے دُور ہٹنے والے ہیں۔پس اگر ہم اپنے جائزے نہیں لیتے ، اپنے کاموں کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے معیار پر پرکھنے کی کوشش نہیں کرتے تو بڑے خوف کا مقام ہے۔حضرت خلیفہ اسی الاول اس حصہ کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ایسے لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جن کی نسبت فرمایا کہ نَسُوا اللهَ فَأَنْسُهُمْ انْفُسَهُمْ أَوْلَئِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ۔یعنی جنہوں نے اس رحمت اور پاکی کے سرچشمہ قدوس خدا کو چھوڑ دیا اور اپنی شرارتوں، چالا کیوں، ناعاقبت اندیشیوں، غرض قسم قسم کے حیلہ سازیوں اور رُو بہ بازیوں سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔“ ( روبہ بازیوں کا مطلب ہے جو لومڑیوں کی طرح چالاکیاں کرتے ہیں۔اردو میں محاورہ ہے لومڑی کی طرح بڑا چالاک ہے۔) پھر آپ فرماتے ہیں کہ مشکلات انسان پر آتی ہیں۔بہت سی ضرورتیں انسان کو لاحق ہیں۔کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے۔دوست بھی ہوتے ہیں۔دشمن بھی ہوتے ہیں مگر ان تمام حالتوں میں منتقی کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ خیال اور لحاظ رکھتا ہے کہ خدا سے بگاڑ نہ ہو ( یعنی خدا تعالیٰ کو ہر وقت یا درکھتا ہے اور وہ اسے دوستوں پر بھی اور فائدہ مند چیزوں پر بھی مقدم رہتا ہے۔