خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 160
خطبات مسرور جلد 13 160 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مارچ 2015 ء دنیاوی نقصان کے ابتلا سے بچنے کی کوشش کروں۔مالی منفعت حاصل کرلوں چاہے جو بھی ذریعہ اپنا یا جائے۔لیکن یا درکھنا چاہئے کہ کوئی ایسا طریق جس سے دھوکہ دے کر فائدہ حاصل کیا جائے دین سے اور ایمان سے دور لے جانے والا ہے اور یہ بظاہر دنیاوی معاملہ دینی ابتلا بن جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ آہستہ آہستہ دین اور خدا سے دور لے جاتا ہے۔اس لئے ایک مومن کو ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ ایمان کا ابتلا دنیاوی ابتلاؤں سے بہت زیادہ ہے جس کے نتیجہ میں دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں۔پس ہمیں اس سوچ کے ساتھ اپنے دلوں کو ٹولتے رہنا چاہئے اور ہر کام کے انجام پر نظر رکھنی چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کی میرے ہر کام پر نظر ہے۔یہ سوچ جب پیدا ہو جائے تو مومن ایک حقیقی مومن بن جاتا ہے یا بنے کی طرف قدم بڑھا رہا ہوتا ہے۔اس معیار کو دیکھنے کے لئے کسی جماعتی یا ذیلی تنظیم کے رپورٹ فارم کو دیکھنے اور اس پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہر ایک شخص خود اپنے جائزے لے سکتا ہے کہ کیا یہ اس کے معیار ہیں کہ ہر کام کرنے سے پہلے اسے یہ خیال آئے کہ خدا تعالیٰ میرے اس کام کو دیکھ رہا ہے۔اگر میں نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ کام کر رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ کا کئی گنا جزا کا بھی وعدہ ہے، اجر کا بھی وعدہ ہے۔اور اگر نیت بد ہے تو پھر انسان کو یہ سوچنا چاہئے کہ میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں بھی آ سکتا ہوں۔جب ہم میں سے ہر ایک ایسی سوچ کے ساتھ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کرے گا اور اس کے لئے کوشش کرے گا تو جماعت کے جو تقوی کے عمومی معیار ہیں وہ بھی بلند ہوں گے اور یہ تقویٰ کا معیار بلند ہوتا ہوا جماعتی طور پر بھی خود بخود نظر آنا شروع ہو جائے گا۔نہ تربیت کے شعبے کے لئے مشکلات اور مسائل ہوں گے، نہ امور عامہ اور قضاء کے شعبے کے لئے مسائل ، نہ ہی دوسرے شعبوں کو یاددہانیوں کی ضرورت اور فکر پڑے گی۔پس اپنے دلوں کو ہر وقت صبح شام ٹولتے رہنا چاہئے اور شیطان کے حملوں سے نفس کو بچانے کی انتہائی کوشش کی ضرورت ہے۔اگر نہیں خیال آتے تو یہ شیطان کی وجہ سے ہی نہیں آتے۔اس بات کو بھلانے میں شیطان ہی کردار ادا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کو بھلایا جائے تو شیطان ہی ہے جو کر دار ادا کرتا ہے۔کل کی اگر فکر نہ ہو تو وہ شیطان ہی ہے جو بھلاتا ہے۔یہ شیطان ہی ہے جو یہ کہتا ہے اس بات کو بھول جاؤ کہ خدا تعالی تمہیں دیکھ رہا ہے۔اگر ہم جائزہ لیں کہ اکثر اس بات کو نہیں سوچتے کہ میرے کام کو خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے اور یہ سب اس لئے ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے خون کے ساتھ اس کے جسم میں چلتا ہے۔(صحیح البخاری کتاب الاعتكاف باب زيارة المرأة زوجها فى اعتکافه حدیث نمبر 2038)