خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 158
خطبات مسرور جلد 13 158 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مارچ 2015ء پر صرف دنیا داری کی خاطر اپنے گھروں کو برباد کر رہے ہیں سوچنا اور غور کرنا چاہئے۔اگلی نسلیں صرف آپ ہی کی اولا د نہیں ہیں بلکہ جماعت اور قوم کا بھی سرمایہ ہیں۔ان کو صحیح راستے دکھانا ماں باپ کا کام ہے اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب ماں باپ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات کے مطابق چلانے کی کوشش کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔یہ تو ایک پہلو ہے جس کی طرف ہر مومن کو اللہ تعالیٰ نے کوشش کرنے کی طرف اور عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے تا کہ اپنی اور بچوں کی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ہماری زندگی میں بیشمار ایسے مواقع آتے ہیں جب ہم تقویٰ سے کام نہیں لیتے۔آخرت پر نظر نہیں رکھتے۔اس دنیا کے وسائل اور ضروریات کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔دنیا کے سہاروں کو اللہ تعالیٰ کے سہاروں پر لاشعوری طور پر ترجیح دیتے ہیں۔پھر اپنی کمزوریوں کی وجہ سے، نا اہلیوں کی وجہ سے،سستیوں کی وجہ سے اس دنیا کے مستقبل کو بھی برباد کرتے ہیں۔اس دنیا میں جو اپنی کل ہے اس کو بھی برباد کرتے ہیں اور اگلے جہان کی کل کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہ نہیں سوچتے کہ اس کے کتنے بھیا نک نتائج نکل سکتے ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الاول نے ایک دفعہ مختصر الفاظ میں یوں توجہ دلائی کہ ” مومن کو چاہئے کہ جو کام کرے اس کے انجام کو پہلے سوچ لے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔فرماتے ہیں کہ انسان غضب کے وقت قتل کر دینا چاہتا ہے۔گالی نکالتا ہے۔مگر سوچے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔اس اصل کو مدنظر ر کھے تو تقویٰ کے طریق پر قدم مارنے کی توفیق ملے گی۔“ ( حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 67) اگر ہم دیکھیں تو تمام برائیاں اور تمام گناہ اس لئے سرزد ہوتے ہیں کہ ان کے کرتے وقت ہمارے دماغ میں ایک خناس سمایا ہوتا ہے، شیطان گھسا ہوتا ہے۔نتائج سے بے پرواہ ہو کر کام ہوتا ہے۔بہت شاذ ایسا ہوتا ہے کہ قتل و غارتگری کرنے والے یا گناہ کرنے والے اقرار کر کے خود اپنے آپ کو اس کے نتائج بھگتنے کے لئے پیش کر دیں۔ایسے لوگوں کے جنون کی کیفیت جو خود ہی پیش کرتے ہیں تقریباً مستقل کیفیت ہوتی ہے۔باقی ہر عقل والا ، عام عقل والا انسان جب اس جنونی کیفیت سے باہر آتا ہے تو اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔عادی مجرموں کا معاملہ تو اور ہے وہ اس کے علاوہ ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی بات نہیں فرما رہا جو عادی لوگ ہیں یا بالکل پاگل ہیں بلکہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو فرماتا ہے کہ مومن کی نشانی کل پر نظر رکھنا ہے۔