خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 157

خطبات مسرور جلد 13 157 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 مارچ 2015ء نے بتایا ہے کہ انسان کل کی فکر آج کرے۔اس سے دنیا میں بھی سنوار پیدا ہوگا اور آخرت کی زندگی میں بھی سنوار پیدا ہو گا۔پھر آپ نے فرمایا کہ قرآن پاک کی تعلیم وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ پر عمل کرنے سے انسان نہ صرف دنیا میں کامران ہوتا ہے بلکہ عقبی میں بھی خدا کے فضل سے سرخرو ہوگا۔ہم کبھی آخرت کے لئے 66 سرمایہ نجات جمع نہیں کر سکتے جب تک آج ہی سے اس دار القرار کے لئے تیاری نہ شروع کر دیں۔“ (حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 67) خطبہ نکاح کی آیات اور اہمیت اس حوالے سے میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ یہ آیت نکاح کے خطبے میں بھی ہم پڑھتے ہیں۔یہ نکاح کے خطبے میں پڑھی جانے والی آیات میں سے سب سے آخری آیت ہے۔اللہ تعالیٰ نے نکاح کے خطبہ میں پڑھی جانے والی آیات میں مختلف امور کی طرف توجہ دلا کر کہ اپنے ریمی رشتوں کا بھی خیال رکھو۔اس بندھن کے ساتھ جو ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں ان کا بھی خیال رکھو۔سچائی اختیار کرو۔سچائی پر قائم رہو گے تو اس کے ذریعہ سے نیک اعمال کی اور رشتے نبھانے کی توفیق ملتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات پر چلو اس میں تمہاری کامیاب زندگی ہے۔پھر مزید زوردیا کہ اگر کل پر نظر رکھو گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات پر بھی نظر رہے گی۔اب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بیشمار احکامات ہیں جو عائلی معاملات کو خوبصورت بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔اگر انسان غور کرے تو اس کا فائدہ انسان کو ہی ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اول نے یہ فرمایا کہ دنیا بھی سنور جائے گی اور عقبی بھی سنور جائے گی۔اس دنیا میں گھر یلو زندگی بھی جنت نظیر بن جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے سے آخرت کے انعامات بھی ملیں گے۔پھر صرف اپنی ذات تک ہی نہیں بلکہ اس وجہ سے اولاد بھی نیکیوں پر چلنے والی ہوگی۔گویا صرف اپنی کل نہیں سنوار رہے ہوں گے بلکہ انگلی نسل کی کل کی بھی ایک حقیقی مومن ضمانت بننے کی کوشش کرے گا۔بلکہ ضمانت بن جاتا ہے کہ عموماً پھر آئندہ نسل بھی نیکیوں پر قدم مارنے والی ہوگی۔پس اگر وہ گھر یا وہ خاندان جو اپنے گھروں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر برباد کر رہے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر غور کرنے والے اور ان پر عمل کرنے والے بن جائیں تو نہ صرف اپنے گھروں کے سکون کے ضامن ہوجائیں گے، اپنے بچوں کی صحیح تربیت اور ان کو تقویٰ پر چلنے کی طرف رہنمائی کرنے والے بھی بن جائیں گے اور ان کی زندگیاں سنوارنے والے بھی بن جائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔پس ایسے گھروں کو جو چھوٹی چھوٹی باتوں