خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 154

خطبات مسرور جلد 13 154 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015ء دوسرا جنازہ مکرم چوہدری بشیر احمد صاحب کا ہے جو چوہدری محمد ابراہیم صاحب کے بیٹے تھے۔شیخو پورہ کے رہنے والے تھے۔77-78ء میں انہوں نے خود بیعت کی توفیق پائی۔بعد میں ان کی فیملی بھی اور دو بھائیوں نے بھی بیعت کر لی۔رچنا ٹاؤن میں قیام کے دوران بحیثیت سیکرٹری اصلاح وارشاد اور سیکرٹری امور عامہ خدمت کی توفیق پائی۔علاقہ میں معروف اور نمایاں حیثیت کے مالک تھے۔7 ستمبر 2011ء کو رچنا ٹاؤن میں مخالفین جماعت نے بشیر صاحب پر ان کے گھر کے قریب قاتلانہ حملہ کیا۔حملہ کے نتیجہ میں ان کو تین گولیاں لگیں۔ایک گولی گردن میں لگی اور آر پار ہوگئی جبکہ دو گولیاں پیٹ میں لگیں جنہوں نے بڑی آنت کو شدید نقصان پہنچایا۔وقوعہ کے بعد پھر ان کا ایک ہفتہ لاہور میں علاج ہوا اس کے بعد فضل عمر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔اللہ کے فضل سے صحتیاب ہوئے۔اور ان پر قاتلانہ حملہ کے مدعی ان کے ایک غیر احمدی بھانجے زاہد احمد صاحب بنے۔اور یہ گروہ تو کیونکہ پورا مافیا ہوتے ہیں نتیجہ قاتلوں نے 5 مارچ 2012ء کو فائر کر کے ان کے بھانجے کو بھی شہید کر دیا جو غیر از جماعت تھے۔ان حالات میں چوہدری صاحب نے پھر اپنی فیملی کے ساتھ وہاں سے شفٹ ہونے کا سوچا اور ربوہ چلے گئے۔کچھ عرصہ قبل ان کو کینسر تشخیص ہوا تھا۔زیر علاج رہے لیکن تقدیر غالب آئی اور ان کی وفات ہوگئی انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ بڑے نرم مزاج تھے۔نمازوں کی طرف توجہ دینے والے تھے۔والدین کی خدمت کرتے ہوئے ان کو دیکھا۔بہت صابر اور سادہ تھے۔رحمدل اور ہر کسی سے مخلص تھے۔خود اپنے آپ کو نقصان کروا لیتے تھے لیکن کسی کو نقصان نہیں پہنچنے دیتے تھے۔کسی ضرورتمند کو اکیلا نہیں چھوڑتے تھے۔ہمیشہ سب کی مدد کرتے تھے چاہے وہ احمدی ہو یا غیر احمدی۔تہجد گزار اور ہمیشہ مسجد میں جا کر نماز ادا کرنے والے اور یتیم بچوں اور بیواؤں کی پرورش کرتے تھے۔مخالفین کا بھی ذکر ہوتا تو ہمیشہ کہتے بس یہ دعا کرو اللہ ان کو ہدایت دے۔جب ان پر حملہ ہوا ہے اس وقت بھی تیمارداری کے لئے جولوگ گئے انہوں نے کہا کہ ان ظالموں کو اللہ تعالیٰ پکڑے تو آپ نے فرمایا یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔اللہ کے فضل سے موصی تھے اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں ان کی تدفین ہوئی ہے۔وفات کے وقت ان کی عمر 63 سال تھی۔پسماندگان میں ان کی اہلیہ اور دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو صبر عطافرمائے اور مرحوم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 20 مارچ 2015 ء تا 26 مارچ 2015 ، جلد 22 شماره 12 صفحہ 05 09)