خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 125

خطبات مسرور جلد 13 125 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء مسئله نبوت ،مسئلہ کفر، مسئله خلافت ، مسئلہ تقدیر، قرآنی ضروری امور کا انکشاف، اسلامی اقتصادیات اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرت وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون موجود نہیں تھا۔مجھے خدا نے اس خدمت دین کی توفیق دی اور اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے ہی اس مضمون کے متعلق قرآن کے معارف کھولے جس کو آج دوست اور دشمن سب نقل کر رہے ہیں۔مجھے کوئی لاکھ گالیاں دے، مجھے لاکھ برا بھلا کہے، جو شخص اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے لگے گا اسے میرا خوشہ چیں ہونا پڑے گا۔مجھ سے بہر حال مدد لینی پڑے گی اور میرے احسان سے کبھی باہر نہیں جاسکے گا چاہے پیغامی ہوں یا مصری۔ان کی اولادیں جب بھی دین کی خدمت کا ارادہ کریں گی وہ اس بات پر مجبور ہوں گی کہ میری کتابوں کو پڑھیں اور ان سے فائدہ اٹھا ئیں بلکہ میں بغیر فخر کے کہہ سکتا ہوں کہ اس بارے میں سب سے زیادہ مواد میرے ذریعہ سے جمع ہوا ہے اور ہورہا ہے۔پس مجھے یہ لوگ خواہ کچھ کہیں ، خواہ کتنی بھی گالیاں دیں ان کے دامن میں اگر قرآن کے علوم پڑیں گے تو میرے ذریعہ سے ہی اور دنیا ان کو یہ کہنے پر مجبور ہوگی کہ اے نادانو ! تمہاری جھولی میں تو جو کچھ بھرا ہوا ہے وہ تم نے اسی سے لیا ہے۔پھر اس کی مخالفت تم کس منہ سے کر رہے ہو؟ (ماخوذ از ” خلافت راشدہ “۔انوار العلوم جلد 15 صفحہ 587-588) پھر ایک خطبے میں آپ نے فرمایا کہ ہمارے ایک استاد تھے۔استاد کا قصہ یہ ہے کہ وہ حضرت مصلح موعود کے درس میں شامل ہوتے تھے لیکن اپنے اور باقی ساتھیوں کے درس میں شامل نہیں ہوتے تھے کہ وہاں مجھے نکات نہیں ملتے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 22 صفحہ 472) بہر حال یہ خلاصہ ہے۔پھر ایک جگہ فرماتے ہیں کہ 1907ء میں سب سے پہلی دفعہ میں نے پبلک تقریر کی۔جلسے کا موقع تھا بہت سے لوگ جمع تھے۔حضرت خلیفہ مسیح الا ول بھی موجود تھے۔میں نے سورۃ لقمان کا دوسرا رکوع پڑھا اور پھر اس کی تفسیر بیان کی۔میری اپنی حالت اس وقت یہ تھی کہ جب میں کھڑا ہوا تو چونکہ اس سے پہلے میں نے پبلک میں کبھی لیکچر نہیں دیا تھا اور میری عمر بھی اس وقت صرف اٹھارہ سال کی تھی۔پھر اس وقت حضرت خلیفہ اول بھی موجود تھے انجمن کے ممبران بھی تھے اور بہت سے اور دوست بھی آئے ہوئے تھے۔اس لئے میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔اس وقت مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے سامنے کون بیٹھا ہے اور کون نہیں۔تقریر آدھ گھنٹے یا پون گھنٹے جاری رہی۔جب میں تقریر ختم کر کے بیٹھا تو مجھے یاد ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے کھڑے ہو کر فرمایا۔میاں! میں تم کو مبارکباد دیتا