خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 118
خطبات مسرور جلد 13 118 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء پھر یہ پیشگوئی میں ذکر آتا ہے کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔اس کی طرف بھی میری رویا میں اشارہ کیا گیا ہے۔چنانچہ خواب میں میں بڑے زور سے کہہ رہا ہوں کہ میں وہ ہوں جسے علوم اسلام اور علوم عربی اور اس زبان کا فلسفہ ماں کی گود میں اس کی دونوں چھاتیوں سے دودھ کے ساتھ پلائے گئے تھے۔پھر لکھا تھا وہ جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔اس کے متعلق بھی رویا میں وضاحت پائی جاتی ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ رویا میں میری زبان پر تصرف کیا گیا اور میری زبان سے خدا تعالیٰ نے بولنا شروع کر دیا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے میری زبان سے کلام فرمایا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور آپ نے میری زبان سے بولنا شروع کر دیا۔یہ جلال الہی کا ایک عجیب ظہور تھا جس کا پیشگوئی میں بھی ذکر پایا جاتا تھا۔پس یہ بھی ان دونوں میں ایک مشابہت پائی جاتی ہے۔پھر لکھا تھا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا اور یہ الفاظ ہیں پیشگوئی کے اور رویا میں بھی یہ دکھایا گیا کہ ایک قوم ہے جس میں میں ایک شخص کو لیڈر مقرر کرتا ہوں اور ان الفاظ میں جیسے ایک طاقتور بادشاہ اپنے ماتحت کو کہہ رہا ہوا سے کہتا ہوں کہ اے عبدالشکور ! تم میرے سامنے اس بات کے ذمہ دار ہو گے کہ تمہارا ملک قریب ترین عرصے میں توحید پر ایمان لے آئے۔شرک کو ترک کر دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ارشادات کو اپنے مدنظر رکھے۔یہ صاحب شکوہ اور عظمت کے ہی کلمات ہو سکتے ہیں جو رویا میں میری زبان پر جاری کئے گئے۔اور یہ جو پیشگوئی میں ذکر آتا ہے کہ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس پر کلام الہی نازل ہوگا اور رویا میں اس کا بھی ذکر آتا ہے۔چنانچہ الہی تصرف کے تحت رویا میں میں سمجھتا ہوں کہ اب میں نہیں بول رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں جاری کی جارہی ہیں۔پس اس حصے میں پیشگوئی کے انہی الفاظ کے پورا ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے۔پھر رؤیا کا یہ حصہ بھی پیشگوئی کے ان الفاظ کی تصدیق کرتا ہے کہ رویا میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر قدم جو میں اٹھا رہا ہوں وہ کسی پہلی وحی کے مطابق اٹھا رہا ہوں۔اب میں خیال کرتا ہوں کہ یہ جو میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ میں جو سفر کروں گا وہ ایک سابق وحی کے مطابق ہوگا۔اس سے اشارہ مصلح موعود والی پیشگوئی ہی کی طرف تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ میری زندگی اس پیشگوئی کا نقشہ ہے اور الہی تصرف کے ماتحت ہے۔اب میں سمجھتا ہوں کہ پہلی پیشگوئی کے متعلق جو یہ ابہام رکھا گیا کہ یہ کس کی پیشگوئی ہے اس میں یہ حکمت تھی تا