خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 119
خطبات مسرور جلد 13 119 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء مصلح موعود کی پیشگوئی کی طرف توجہ دلا کر اس ذہنی علم کا رویا میں دخل نہ ہو جائے جو مجھے اس پیشگوئی کی نسبت حاصل تھا۔اس قسم کی تدابیر رویا اور الہام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ اختیار کی جاتی ہیں اور اسرار سماویہ میں سے ایک ستر ہیں۔یہ وہ مشابہتیں ہیں جو میری رؤیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں پائی جاتی ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 25 صفحہ 69 تا 71 - خطبہ جمعہ 4 فروری 1944ء) 1936ء کی شوری سے خطاب کرتے ہوئے جب صحابہ کی بھی بڑی تعداد موجود تھی اور تابعین کی بھی کثرت تھی ، حضرت مصلح موعود نے فرمایا۔اب یہ 1936ء میں کافی عرصہ پہلے، قریباً آٹھ سال پہلے کا ذکر تھا جب آپ نے پیشگوئی مصلح موعود کے مطابق یہ اعلان فرمایا کہ میں ہی مصلح موعود ہوں۔آٹھ سال پہلے آپ یہ فرمارہے ہیں کہ اس وقت ہماری جماعت کے لئے تو خلافت کا ہی سوال نہیں۔دو اور سوال بھی ہیں۔ایک تو قرب زمانہ نبوت کا سوال اور دوسرا موعود خلافت کا سوال۔یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو ہر خلیفہ کے ماننے والے کو نہیں مل سکتیں۔اس کا مختصر ذکر میں پہلے بھی ایک دفعہ گزشتہ سال شاید کسی خطبے میں کر چکا ہوں۔فرمایا کہ آج سے سو دو سو سال بعد بیعت کرنے والوں کو یہ باتیں حاصل نہیں ہوسکیں گی۔اس زمانے کے عوام تو الگ رہے خلفاء بھی اس بات کے محتاج ہوں گے کہ ہمارے قول ، ہمارے عمل اور ہمارے ارشاد سے ہدایت حاصل کریں۔ہماری بات تو الگ رہی وہ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ آپ لوگوں کے قول، آپ لوگوں کے عمل اور آپ لوگوں کے ارشاد سے ہدایت حاصل کریں۔(اس وقت جو صحابہ موجود تھے ان سے یہ ذکر ہو رہا ہے۔) فرماتے ہیں کہ وہ خلفاء ہوں گے مگر کہیں گے زید نے فلاں خلافت کے زمانے میں یوں کہا تھا، یوں کیا تھا۔ہمیں بھی اس پر عمل کرنا چاہئے۔حضرت مصلح موعودؓ کی خلافت ایک موعود خلافت پس یہ صرف خلافت اور نظام کا ہی سوال نہیں بلکہ ایسا سوال ہے جو مذہب کا سوال ہے۔پھر صرف خلافت کا سوال نہیں، ایسی خلافت کا سوال ہے جو موعود خلافت ہے۔الہام اور وحی سے قائم ہونے والی خلافت کا سوال ہے۔ایک خلافت تو یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں سے خلیفہ منتخب کرواتا ہے اور پھر اسے قبول کر لیتا ہے مگر یہ ویسی خلافت نہیں ہے۔آپ نے اپنی خلافت کے بارے میں فرمایا کہ یہ ویسی خلافت نہیں۔یعنی میں اس لئے خلیفہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے دوسرے دن جماعت احمدیہ کے لوگوں نے جمع ہو کر میری خلافت پر اتفاق کیا بلکہ اس لئے بھی خلیفہ ہوں کہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں گا۔