خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 111
خطبات مسرور جلد 13 111 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015ء عرصہ صدر ملوا کی جماعت اور مختلف مرکزی عہدوں پر خدمت کی توفیق پاتے رہے۔دوسری شادی آپ کی سینٹ لوئس کے سابق صدر جماعت مکرم خالد عثمان صاحب کی بیٹی عزیزہ احمد سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔آپ کو تبلیغ کا جنون کی حد تک شوق تھا۔کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔آپ کے دور صدارت میں جماعت ملوا کی کی امریکن احمدیوں پر مشتمل ایک بڑی جماعت کی بنیاد پڑی جو امریکہ کی دوسری جماعتوں کے مقابل پر اکثریت میں ہے۔1998ء میں انہیں حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ملوا کی میں جماعت کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں میں بھی مقبول تھے۔20 سال سے ٹی وی کے ایک پروگرام، اسلام لائیو، پر باقاعدہ آ رہے تھے۔آپ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک جماعت کے ہفتہ وار تبلیغی سٹال پر باقاعدگی سے جانا اختیار کئے رکھا۔وفات سے قبل جب تک ہوش میں تھے آپ نرسوں کو بھی تبلیغ احمدیت کرتے رہے۔1985-86ء میں انہوں نے شہر کی مشہور یو نیورسٹی " یونیورسٹی آف وسکانسن (University of Wisconsin) میں عام مسلمانوں کے لئے ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا۔موصوف نے یونیورسٹی آف وسکانسن کے نوجوانوں کے ساتھ بھی رابطہ رکھا ہوا تھا۔باقاعدگی سے کیمپس میں تقاریر کیا کرتے تھے۔ہزاروں کی تعداد میں طلباء کو اسلام کی پرامن تعلیم سے آگاہ کیا۔مرحوم با قاعدگی سے متعدد لوکل اور سٹیسٹ لیڈرز کے ساتھ بھی رابطہ رکھتے تھے۔اتوار کے روز عام لوگوں کے لئے میٹنگ رکھتے جن میں احمدی احباب کے علاوہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے دوسرے احباب بھی آتے اور ان کی باتوں سے مستفیض ہوتے۔دوستوں کے اظہار پر اور مرکز کی اجازت سے آپ نے اپنی یادداشتوں کو جن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رفاقت خاص میں پاکستان کے مختلف مقامات کے سفروں پر جانے اور سوال و جواب کی مجالس میں بیٹھنے اور باقاعدہ طور پر نوٹ بک میں نوٹس کو درج کرنا شامل تھا اس کو کتابی صورت میں طبع کروانا تھا۔اس غرض کے لئے کئی سالوں کی محنت کے بعد یہ کتاب تیار ہوئی اور اب مرکز کی منظوری سے شائع ہونے والی ہے۔مربی سلسلہ ملک فاران ربانی لکھتے ہیں کہ نو ماہ قبل بطور مبلغ یہاں میری آپ سے پہلی ملاقات ہوئی۔میری عمر کم ہونے کے باوجود آپ نہایت محبت سے ملے۔پھر جب میں نے آپ سے جماعت ملوا کی میں بعض پروگراموں کے متعلق مشورہ کرنا چاہا تو اردو میں مجھے مخاطب ہو کر کہا ” مولانا صاحب ! آپ خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں آپ جو کہیں گے ہم نے صرف اطاعت کرنی ہے اور بڑا اطاعت کا جذبہ ان میں تھا۔شمشاد صاحب بھی لکھتے ہیں کہ امریکہ آیا تو ہمیشہ میں نے انہیں حضرت مصلح موعود کی باتیں سناتے ہوئے پایا۔اپنی زندگی کو بھی انہوں نے حضرت مصلح موعود کے ارشادات کے مطابق ڈھالا ہوا تھا۔گزشتہ