خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 110
خطبات مسرور جلد 13 110 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مستری حسن دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرحوم ان کے پڑدادا اور حکیم جلال الدین صاحب رضی اللہ عنہ ان کے والد کے پڑنا نا تھے۔اپنے حلقے میں خدمت کے علاوہ جلسہ سالانہ پر خدمت خلق کی اور سکیورٹی کی ڈیوٹی بڑے شوق سے دیا کرتے تھے۔بڑے خوش اخلاق، ملنسار اور مخلص نوجوان تھے۔پسماندگان میں والدین کے علاوہ اہلیہ اور اڑھائی سالہ بچی یادگار چھوڑی ہیں۔عزیز مرحوم کو کینسر تھا اور بڑا لمبا عرصہ بڑی تکلیف دہ بیماری کو انہوں نے بڑے ہنستے ہوئے گزارا ہے۔میرے پاس بھی انتہائی بیماری کی حالت میں آئے۔جب بھی آتے تھے تو مسکرا رہے ہوتے تھے۔بہت پیارے بچے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور پیار کا سلوک فرمائے۔اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لے۔ان کی بیوی اور بیٹی کو بھی اپنی حفظ وامان میں رکھے اور صبر عطافرمائے۔ان کے والدین کو بھی صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔جنازہ غائب میں پہلے مکرم الحاج رشید احمد صاحب کا جنازہ ہے جن کی وفات ملوا کی امریکہ میں 7 فروری 2015ء کو ہوئی۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔ان کی عمر وفات کے وقت 91 سال تھی۔مرحوم امریکہ کے شہر سینٹ لوئس میں 1923ء میں پیدا ہوئے۔1947ء میں بیعت کر کے اسلام احمدیت میں داخل ہوئے۔بیعت کرنے کے دو سال بعد 1949ء میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ چلے گئے جہاں خود حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا ریلوے سٹیشن جا کر استقبال کیا۔انہوں نے جامعہ احمدیہ میں پانچ سال تعلیم حاصل کی پھر باقاعدہ مبلغ بنے۔پاکستان میں قیام کے دوران اردو اور پنجابی زبان پر عبور حاصل کیا۔امریکہ سے سب سے پہلے جامعہ احمدیہ میں بطور طالبعلم داخل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔اسی طرح ربوہ میں پانچ سال قیام کے دوران آپ کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خاص رفاقت بھی نصیب ہوئی۔حضور رضی اللہ عنہ نے آپ کا رشتہ مبلغ احمدیت حاجی ابراہیم خلیل صاحب کی صاحبزادی مکر مہ سارہ قدسیہ صاحبہ سے کروا دیا جن کے بطن سے آپ کے ہاں تین بچے ہوئے۔ایک بیٹے کی وفات ہو چکی ہے۔ایک بیٹا اور ایک بیٹی آپ کی اس پہلی شادی سے حیات ہیں۔امریکہ میں رہتے ہیں۔1955ء میں جامعہ احمدیہ سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو امریکہ میں بطور مبلغ بھجوایا گیا۔حضرت مصلح موعود نے آپ کی ربوہ سے روانگی کے وقت اپنے دست مبارک سے آپ کو ایک نصیحت فرمائی اور ایک پگڑی کا گلاہ جس میں حضرت مسیح موعود کے کپڑے کا ایک ٹکڑ ا سلا ہوا تھا آپ کو بطور تحفہ عطا فرمایا جو ابھی تک آپ کے پاس موجود تھا۔اب آپ کے بچوں کے پاس ہے۔جماعت احمد یہ امریکہ کےسب سے پہلے مقامی امریکن مشنری تھے۔آپ نے امریکہ میں شکاگو، سینٹ لوئس اور دوسرے شہروں میں بطور مشنری کے علاوہ امیر جماعت امریکہ کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔اس کے علاوہ آپ ایک لمبا