خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 105
خطبات مسرور جلد 13 105 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015 ء پر پھیل جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد ہم پھر جہالت میں واپس چلے جائیں ہمیں قوم کی حیثیت سے ان باتوں سے بچنے کے لئے کوشش کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔پس جماعت احمدیہ کے نظام کے تمام حصے اس بات پر غور کرنے کے لئے سر جوڑیں۔منصوبہ بندی کریں۔اور اگر کوئی بھی برائی ہے تو اس سے پہلے کہ خدا نہ کرے ہم میں بحیثیت قوم مغربی ملکوں کی بیماریاں داخل ہو جائیں اس کا ابھی سے خاتمہ کرنے کی کوشش کریں۔ہم نے دنیا کے علاج کا بیڑا اٹھایا ہے۔ہم نے یہ وعدہ کیا ہے، یہ اعلان کیا ہے کہ ہم دنیا کا علاج کریں گے۔اگر علاج کرنے والے ہی مریض بن گئے تو دنیا سے فردی اور قومی برائیاں اور بدیاں کون دور کرے گا ؟ مسجد کی آبادی پھر اس بات کو بھی سامنے رکھ کر غور کرنا چاہئے کہ کسی قوم میں اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے بعض نیکیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں اور بعض کمزوریاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔اس کی مثال حضرت مصلح موعود نے یہ دی ہے کہ ہماری جماعت اللہ کے فضل سے ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ دُور دُور کے لوگوں کے دلوں کو فتح کر رہا ہے۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی وسعت مل چکی ہے۔اور ساتھ ہی ہماری جماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ کبھی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ غیر احمدی امام نے اُس امام کو نہیں مانا جس کو خدا تعالیٰ نے زمانے کا امام بنا کر بھیجا ہے اور نہ صرف مانا ہی نہیں بلکہ انتہائی غلیظ زبان بھی استعمال کرتے ہیں۔پس ہم خدا کے مقرر کردہ امام پر بندوں کے مقرر کردہ امام کو ترجیح نہیں دے سکتے۔اس لئے ہم ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔اب عموماً تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے سینٹر بھی ہیں اور مساجد بھی ہیں جہاں احمدی با جماعت نماز پڑھ سکتے ہیں یا پڑھتے ہیں لیکن ابھی بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ایک ایک دو دو گھر احمدیوں کے ہیں۔اس لئے وہ گھروں میں نماز پڑھ لیتے ہیں۔بجائے اس کے کہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھیں، ہر ایک اپنی اپنی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے۔اس طرف میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ گھروں میں بھی باجماعت نماز ادا کر لیا کریں تو کوئی حرج نہیں۔یا بعض اس بات پر کہ مصروفیت ہے اپنی نماز علیحدہ پڑھ لیتے ہیں۔بعض کام کی مصروفیت کی وجہ سے نمازیں جمع کر لیتے ہیں تو یہ ساری وجوہات اس لئے ہیں کہ مسجد جانے کی طرف توجہ نہیں یا بعض علاقوں میں مسجد قریب نہیں اور قریب کی جو غیر احمدیوں کی مسجد ہے اس میں ہمیں جانے کی اجازت نہیں یا بعض اور دوسری وجوہات ہیں۔اس کی وجہ سے نماز تو بہر حال پڑھ ہی لیتے ہیں لیکن گھر میں پڑھتے ہیں اور نماز با جماعت کی طرف عموماً توجہ نہیں ہے یا یہ بھی ہے کہ