خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 106
خطبات مسرور جلد 13 106 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015ء نمازیں جمع کرنے کی طرف بلا وجہ زیادہ توجہ ہو گئی ہے۔باوجود توجہ دلانے کے، بار بار کی تلقین کے باجماعت نماز کے لئے ایک بڑی تعداد کو ذوق و شوق نہیں ہے گویا یہ ایک قومی بیماری بن رہی ہے۔اس لئے اس کے علاج کی بہت زیادہ شدت سے ضرورت ہے۔یه فردی نقص نہیں ہے کہ فلاں شخص مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے نہیں آیا۔جس طرح عدم توجہی کا اظہار ہو رہا ہے یہ چیز قومی بیماری اور نقص کی شکل اختیار کر گئی ہے۔حالات کی وجہ سے سہولت نے نماز با جماعت کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔بیشک احمدی نمازیں گھروں میں پڑھتے ہیں اور ان میں ایسے بھی ہیں، بہت سے ایسے ہیں جو بڑے گریہ و زاری سے گڑ گڑا کر نمازیں پڑھتے ہیں جبکہ دوسرے مسلمانوں کی اکثریت ایسی توجہ سے شاید نماز نہ پڑھتے ہوں لیکن پھر بھی وہ جو نمازیں پڑھنے والے ہیں چاہے ظاہر داری کے لئے سہی مسجد میں جا کر نماز ضرور پڑھتے ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحہ 78-79) اور اب تو پاکستان سے بھی یہی خبریں آتی ہیں کہ غیر احمد یوں میں مسجد جانے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔جہاں یہ تو نہیں پتا کہ نمازیں توجہ سے پڑھتے ہیں کہ نہیں لیکن جاتے ضرور ہیں اور پھر وہاں جماعت کے خلاف غلط اور بیہودہ باتیں بھی سنتے ہیں۔ان کی وجہ سے ان میں نفرتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔تو برائیاں تو بہر حال ان میں پیدا ہو رہی ہیں لیکن ایک چیز ہے کہ مسجد میں جاتے ہیں۔ہم نے مسجد میں اگر جانا ہے تو برائیوں کو دور کرنے کے لئے جانا ہے۔اس لئے ہمارے جانے میں اور ان کے جانے میں بہت فرق ہے۔لیکن ان کو اس طرف توجہ ہو چکی ہے اور ہماری اس طرف توجہ میں بہت کمی ہے۔پس ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ مسجدوں کو آباد تو حقیقی مومنوں نے کرنا ہے اور حقیقی مومن وہی ہیں جنہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے ، نہ کہ عبادت کے نام پر فتنہ وفساد کرنے والوں نے من حیث القوم مسجد میں جا کر نماز نہ پڑھنے یا نماز میں جمع کرنے کا نقص مزید بڑھنے کا خطرہ اور امکان اس وقت بڑھ جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بچوں کے ذہنوں میں اس کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے اور بعض بچے اپنے ماں باپ کی حالت دیکھ کر یہ کہنے بھی لگ گئے ہیں کہ دن میں تین نمازیں ہوتی ہیں۔جب کہو کہ پانچ ہوتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے ماں باپ کو تین نمازیں ہی پڑھتے دیکھا ہے۔پس اس بارے میں ہر جگہ غور اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔نہیں تو اگلی نسل میں یہ قومی بدی بن جائے گی۔اپنے ماحول پر نظر ڈال کر جیسا کہ میں نے کہا ہمیں وسیع تر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔آج دنیا کی جو حالت ہے کہ خدا سے اور دین سے دُور ہٹ رہے ہیں اگر ہم نے شدت کے ساتھ کوشش نہ کی تو مختلف قسم کی بدیاں