خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 102
خطبات مسرور جلد 13 102 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015ء ہوتا ہے۔جیسا کہ پاکستان میں گزشتہ دنوں جب گرمیوں میں سیلاب آیا تو اس میں ہم نے دیکھا اور ہمیشہ دیکھتے ہیں۔بعض قدرتی آفات سے بچا جا سکتا ہے بیشک قدرتی آفات ایسی ہیں کہ جب آئیں تو ان سے بچنا مشکل ہے لیکن ایسی بھی ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔بعض آفات کے آنے سے پہلے ان سے ہوشیار کرنے کے سامان ہو جاتے ہیں لیکن انسان اپنی لا پرواہی کی وجہ سے توجہ نہیں دیتا اور نقصان اٹھاتا ہے۔بہر حال اگر قوم کو یا حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ رہے تو نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور یہ عموماً دنیا میں ہم دیکھتے ہیں۔پس قومی احساس اصلاح کے لئے ضروری ہے۔اس بارے میں جماعت احمدیہ کے حوالے سے حضرت مصلح موعود نے توجہ دلاتے ہوئے کہ ہمیں ان قومی بدیوں کو کس طرح دیکھنا چاہئے اور ان پر کس طرح غور کرنا چاہئے یہ فرمایا کہ اگر جماعت بعض پہلوؤں سے اس پر غور کرے اور اس کا علاج کرے تو فائدہ ہوسکتا ہے۔اس کے مختلف ذرائع ہیں، کیونکہ یہ ذرائع جو ہیں وہ قومی امراض کی تشخیص کر سکتے ہیں اور جب تشخیص ہوجائے تو پھر یہ علاج بھی ہوسکتا ہے۔پہلا ذریعہ وہ تعلیمات ہیں جو کسی قوم میں جاری ہوں اور جن پر عمل کرنا ہر شخص اپنا فرض سمجھتا ہو۔اگر وہ بری باتیں ہیں یا اس تعلیم کے بدنتائج ہیں یا اس تعلیم سے بدنتائج نکل سکتے ہوں جیسا کہ بعض مذاہب میں ہیں تو اس کی وجہ سے پھر اس میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔یا بدعات پیدا ہوتی ہیں اور ان کی وجہ سے پھر برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اگر کسی مذہب میں غلط عقائد اور باتیں ہیں تو اس سے ہر وہ شخص متاثر ہو گا جو بھی اس مذہب کو مانے والا ہے اور تمدنی اور معاشرتی زندگی میں بھی اس سے برے نتائج پیدا ہوں گے۔صرف مذہبی طور پر نہیں بلکہ معاشرتی زندگی میں بھی، تمدنی زندگی میں بھی برے نتائج پیدا ہوں گے۔لیکن ہم جو مسلمان ہیں قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس تعلیم میں کوئی نقص نہیں اور اس کے برے نتا ئج کبھی نہیں نکل سکتے یا یہ ہوہی نہیں سکتا کہ اس سے کوئی بدی پیدا ہو کیونکہ تعلیم بے عیب ہے اس لئے ظاہر ہے برا نتیجہ نکل نہیں سکتا۔پس مسلمانوں نے یہ سوچ لیا کہ برائی آہی نہیں سکتی لیکن کیا سب مسلمان برائیوں سے پاک ہیں؟ جب ہم اپنے ماحول کا جائزہ لیتے ہیں۔مسلمانوں کی عمومی حالت دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اکثریت تو برائیوں میں مبتلا ہے۔پس اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن میں تو کوئی نقص نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے خود اس میں یہ اعلان فرما دیا کہ اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔کامل اور مکمل شریعت ہے۔اگر قرآن کریم کی بیشمار