خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 101
خطبات مسرور جلد 13 101 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015 ء نہیں ہوسکتی کیونکہ فرد جزو ہے۔گل کا حصہ ہے اور جو خرابی گل میں ہو وہ جزو کی اصلاح سے ٹھیک نہیں ہوسکتی بلکہ گل کی خرابی اگر ہو تو اس سے فرد بھی متاثر ہوتا ہے۔اگر ایک علاقے میں ماحول ہی خراب ہے تو اس ماحول کی وجہ سے وہاں رہنے والے تمام لوگ متاثر ہوں گے۔مثلاً اگر کوئی شخص زہر کھا لے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ زہر ہاتھ پاؤں اور دماغ یا دوسرے اعضاء پر اثر نہ کرے۔یہ تمام جسم پر اثر کرے گا۔اسی طرح ہمارا کھانا ہے۔گوشت پھل وغیرہ ہم کھاتے ہیں اور مختلف چیزیں ہم کھاتے ہیں ان سے جسم کا ہر حصہ فائدہ اٹھائے گا کیونکہ یہ تمام اعضاء گل کے یعنی جسم کے افراد ہیں۔اس لئے وہ زہر میں بھی حصہ لیتے ہیں اور اچھی خوراک میں بھی حصہ لیتے ہیں۔اسی طرح جو نیکی یا بدی قومی طور پر پیدا ہو وہ تمام قوم پر اثر ڈالتی ہے۔پس جو قومی بدیاں یا نیکیاں ہوں ان کا مقابلہ کوئی خاص حصہ جسم یا فرد نہیں کر سکتا یا کسی خاص فرد کی اصلاح سے قومی اصلاح نہیں ہو سکتی ، نہ بدیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح نہ ہی نیکیوں کو پھیلا یا جاسکتا ہے۔کیونکہ گل کا اثر جزو پر ضرور پڑتا ہے۔بہر حال یہی قاعدہ ہے کہ اگر کل کو فائدہ ہو تو جز کو بھی فائدہ ہوگا اور اگر کل کو نقصان پہنچے تو جز کو بھی نقصان پہنچے گا۔پس افراد کی بدیاں تو ان کی تشخیص کر کے پھر ان کا علاج کر کے دُور کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے اور کسی کو اگر خود احساس ہو جائے تو وہ خود بھی کوشش کر کے اپنی بدیاں دُور کر سکتا ہے لیکن قومی بدیوں کو دور کرنے کے لئے تمام قوم کو غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر بحیثیت قوم وہ بدیوں کو دور کرنے کے لئے کھڑی نہ ہو ، کوشش نہ کرے یا بحیثیت قوم علاج کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو بحیثیت قوم وہ بدیاں اور نقائص اس قوم میں پیدا ہو جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب وہ قوم کو ہلاک کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔پس جہاں یہ ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے نفس کی کمزوریوں کو دیکھے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی کمزوریوں کو دیکھیں اور ان کی نشاندہی کریں اور پھر بحیثیت قوم ان کا علاج اور تدارک کریں اور اس علاج میں ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ بغیر مشترکہ کوشش کے اور مشترکہ طور پر علاج کے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔دنیاوی قانون کو بھی اگر دیکھیں مثلاً قدرتی آفات ہیں ، سیلاب ہے تو کوئی زمیندارا اپنی زمین کو بند باندھ کر سیلاب سے نہیں بچا سکتا۔بند باندھنا، اس کی منصوبہ بندی کرنا یہ حکومت کا کام ہے۔مشترکہ کوشش حکومت کی طرف سے ہوتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحه 75-76) حکومت نام ہے لوگوں کے جمع ہونے کا اور جہاں حکومتیں ہی لکھی ہوں وہاں پوری قوم کو نقصان