خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 100
خطبات مسرور جلد 13 100 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 فروری 2015 ء بڑے بڑے برتنوں میں اس کو رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے ہالوں کے اندر اس کی کاشت ہوتی ہے لیکن بہر حال اس کے بغیر بیج نہیں اُگ سکتا۔کسی بھی بیچ سے صحیح استفادہ کے لئے ، اس سے اس کے اگانے کا مقصد حاصل کرنے کے لئے اس کو زمین یا زمین جیسے ماحول کے میٹر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بغیر بیج اگر اُگے گا بھی تو تھوڑے عرصے میں مرجائے گا، ختم ہو جائے گا۔اسی طرح بدی یا نیکی جو نقائص یا خوبی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے وہ ماحول کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔پس برائیوں یا نیکیوں کے بڑھنے میں ماحول ایک لازمی جزو ہے۔اردگرد کے اثرات جب تک کسی نیکی یا بدی کے لئے خاص زمین تیار نہ کر دیں اس وقت تک وہ بدی یا نیکی نشود نما نہیں پاسکتی۔لیکن ماحول بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ضروری نہیں کہ ایک قسم کا ماحول ہر ایک پر ایک جیسا اثر انداز ہو جائے۔ایک قسم کا ماحول صرف افراد پر اثر ڈالتا ہے اور مین حیث القوم وہ ہر ایک کو متاثر نہیں کرتا۔اس کی مثال ایسی زمین کی ہے جس میں خاص فصلیں اگ سکیں۔مثلاً حضرت مصلح موعودؓ نے مثال دی ہے کہ زعفران ہے، ہندوستان میں پیدا ہوتا ہے تو یہ تمام ہندوستان میں نہیں ہوتا ہے بلکہ خطہ کشمیر میں ہوتا ہے اور وہاں بھی ایک خاص علاقہ ہے جس میں خاص قسم کا زعفران پیدا ہوتا ہے جو اعلیٰ قسم کا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحہ 74-75) پاکستانی زمیندار بھی جانتے ہیں بلکہ چاول کا کاروبار کرنے والے بہت سارے لوگ جانتے ہیں که خوشبودار باسمتی جیسا کہ کالر کے علاقے میں ہوتا ہے وہاں پاکستان کے اور کسی علاقے میں نہیں ہوتا۔زراعت کے ماہرین نے بڑی کوشش بھی کی ہے لیکن اس جیسی خوشبو پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔بہر حال خاص حالات خاص بیجوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے قانون قدرت میں مہیا کر دیئے ہیں یا مقرر کر دیئے ہیں اس کے بغیر وہ خاصیت اور وہ صفت پیدا نہیں ہوتی۔پھر زمین ہے یا دوسرے موسمی اثرات ہیں یہ سارے اثر انداز ہوتے ہیں۔اس کے مقابلے پر بعض فصلیں ایسی ہیں مثلاً گندم ہے یا خاص قسم کے باغات ہیں وہ ایک ملک میں تمام جگہ ہو جاتے ہیں۔پیداوار میں کمی و بیشی کا فرق ہو تو ہو لیکن ہو جاتے ہیں۔پس اسی طرح نیکیاں اور بدیاں بھی بعض اثرات کے تحت قومی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں اور پوری قوم کی ترقی یا زوال کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔افراد کی بدیاں تو افراد کی کوشش سے ٹھیک ہو سکتی ہیں اور اگر کوشش کریں تو نہ صرف بدیاں دُور ہو جائیں گی بلکہ افراد میں اگر وہ کوشش کریں تو فردی خوبیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔لیکن جو قومی اثرات کے تحت بدیاں یا نیکیاں ہوں ان کے لئے کسی ایک فرد کی کوشش کار آمد ثابت