خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 97

خطبات مسرور جلد 13 97 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء ہے کہ یہ لوگ موت سے ڈرتے ہیں تو کہتا ہے آؤ ہم انہیں ڈرائیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ شیطان اپنے اولیاء کو ڈراتا ہے۔پس جب کوئی شخص ڈرتا ہے تو دشمن سمجھتے ہیں کہ یہ شیطانی آدمی ہے۔لیکن اگر وہ ڈرتا نہیں بلکہ ان حملوں اور تکلیفوں کو خدا تعالیٰ کا انعام سمجھتا ہے اور کہتا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے یہ عزت کا مقام عطا فرمایا اور اس نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ میں اس کی خاطر ماریں کھا رہا ہوں تو دشمن مرعوب ہو جاتا ہے اور آخر اس میں ندامت پیدا ہو جاتی ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحه 582-583) مومن کا کام ہے اپنے آپ کو کام میں مصروف رکھے مولوی برہان الدین صاحب کے تعلق میں ایک اور واقعہ بھی ہے۔”مولوی برہان الدین صاحب (جیسا کہ بتایا گیا) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت مخلص صحابی تھے۔نہایت خوش مذاق آدمی تھے۔انہی کی وفات اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی وفات کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مدرسہ احمدیہ کے قیام کا خیال پیدا ہوا تھا (جو بعد میں پھر جامعہ احمدیہ بن گیا۔تو فرماتے ہیں کہ ) وہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے اور ذکر کیا کہ میں نے خواب میں اپنی فوت شدہ ہمشیرہ کو دیکھا ہے۔وہ مجھے ملی ہے۔میں نے اسے پوچھا کہ بہن بتاؤ وہاں تمہارا کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگی خدا نے بڑا فضل کیا ہے مجھے اس نے بخش دیا اور اب میں جنت میں آرام سے رہتی ہوں۔میں نے پوچھا کہ بہن وہاں کرتی کیا ہو؟ وہ کہنے لگی یہ بھی لطیفہ ہے۔کہنے لگی بیر بیچتی ہوں۔مولوی برہان الدین صاحب کہنے لگے میں نے خواب میں ہی کہا۔بہن ساڈھی قسمت وی عجیب اے، سانوں جنت دے وچ وی بیرای و بیچنے پیٹے۔ان کے خاندان میں چونکہ غربت تھی اس لئے خواب میں بھی ان کا خیال ادھر گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ رویا سن کر فرمایا مولوی صاحب ! اس کی تعبیر تو اور ہے مگر خواب میں بھی آپ کو تمسخر ہی سوجھا اور آپ کو مذاق کرنا نہ بھولا۔( کیونکہ مذاق کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ بیر در حقیقت جنتی پھل ہے اور اس سے مراد ایسی کامل محبت ہوتی ہے جولا زوال ہو۔کیونکہ سدرۃ لازوال الہی محبت کا مقام ہے۔پس اس کی تعبیر یہ تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کی لازوال محبت لوگوں میں تقسیم کرتی ہوں تو بہن کا مطلب یہ تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی لازوال محبت لوگوں میں تقسیم کرتی ہوں۔(پھر آپ وضاحت میں فرماتے ہیں)