خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 98
خطبات مسرور جلد 13 98 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء غرض مومن تو کسی جگہ رہے اسے کام کرنا پڑے گا یعنی یہ نہیں کہ مرنے کے بعد جنت میں چلے گئے تو صرف آرام ہی آرام ہے۔کام کرنا پڑے گا جیسا کہ ان کی ہمشیرہ نے انہیں بتایا کہ میں کیا کام کرتی ہوں اور اگر کسی وقت کسی کے ذہن میں یہ آیا کہ اب آرام کا وقت ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اس نے اپنے ایمان کو کھو دیا کیونکہ جس بات کو اسلام نے ایمان اور آرام قرار دیا ہے وہ تو کام کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلَى رَبَّكَ فَارْغَبُ (الانشراح: 8-9) - کہ جب تم فارغ ہو جاؤ تو اور زیادہ محنت کرو اور اپنے رب کی طرف دوڑ پڑو۔یہ نکتہ ہے جسے ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔تمہارے لئے ان معنوں میں کوئی آرام نہیں جسے دنیا کے لوگ آرام کہتے ہیں۔لیکن جن معنوں میں قرآن کریم آرام کا وعدہ کرتا ہے اسے تم آسانی سے حاصل کر سکتے ہو۔دنیا جن معنوں میں آرام کا مطلب لیتی ہے وہ یقینا غلط ہے اور ان معنوں سے جس شخص نے آرام کی تلاش کی وہ اس جہان میں بھی اندھا رہے گا اور آخرت میں بھی اندھا اٹھے گا“۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 16 صفحہ 612-613) پس مومن کا کام ہے کہ اپنے آپ کو کام میں مصروف رکھے۔ایک ہدف کو حاصل کر کے دوسرے ٹارگٹ کی تلاش کے لئے کمر بستہ ہو جائے۔اور یہی انفرادی اور قومی ترقی کا نسخہ ہے اور راز ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ مورخہ 27 فروری 2015 ء تا05 مارچ 2015 ءجلد 22 شماره 09 صفحه 05 تا08)