خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 96

خطبات مسرور جلد 13 96 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء بیان فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے تو مولویوں نے فتوی دے دیا کہ جو شخص مرزا صاحب کے پاس جائے گا یا ان کی تقریروں میں شامل ہوگا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔یہ کافر اور دجال ہیں۔ان سے بولنا، ان کی باتیں سنا اور ان کی کتابیں پڑھنا بالکل حرام ہے بلکہ ان کو مارنا اور قتل کرنا ثواب کا موجب ہے۔( تو مولویوں کی یہ بات کوئی نئی نہیں ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔مگر آپ کی موجودگی میں انہیں فساد کی جرات نہ ہوئی ( کیونکہ اس وقت وہاں پولیس کا بھی پہرا تھا اور سرکاری افسر بھی تھے اور لوگ بھی کافی تھے اس لئے اس وقت تو فساد کی جرات نہ ہوئی ) کیونکہ چاروں طرف سے احمدی جمع تھے۔انہوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ ان کے جانے کے بعد فساد کیا جائے۔(حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) میں بھی اس وقت آپ کے ساتھ تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں سے روانہ ہوئے اور گاڑی میں سوار ہوئے تو دور تک آدمی کھڑے تھے جنہوں نے پتھر مارنے شروع کر دیئے مگر چلتی گاڑی پر پتھر کس طرح لگ سکتے تھے۔شاذ و نادر ہی ہماری گاڑی کو کوئی پتھر لگتا۔وہ مارتے تو ہم کو تھے اور لگتا ان کے کسی اپنے آدمی کو جا کے تھا۔پس ان کا یہ منصوبہ تو پورا نہ ہو سکا۔باقی احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وجہ سے وہاں جمع تھے ان میں سے کچھ تو اردگرد کے دیہات کے رہنے والے تھے جو آپ کی واپسی کے بعد ادھر ادھر پھیل گئے اور جو تھوڑے سے مقامی احمدی رہ گئے یا باہر کی جماعتوں کے مہمان تھے ان پر مخالفین نے سٹیشن پر ہی حملے شروع کر دیئے۔ان لوگوں میں سے جن پر حملہ ہوا ایک مولوی برہان الدین صاحب بھی تھے۔( ان کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔) مخالفوں نے ان کا تعاقب کیا۔پتھر مارے اور برا بھلا کہا ( اور پھر وہی واقعہ ایک دکان میں لے جا کے ان کے منہ میں گو بر ڈالا گیا۔تو یہ بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں تو جب مولوی صاحب کے ساتھ یہ زیادتی ہو رہی تھی ظلم ہو رہا تھا ) تو بجائے اس کے کہ مولوی صاحب گالیاں دیتے یا شور مچاتے۔جنہوں نے وہ نظارہ دیکھا ہے بیان کرتے ہیں کہ وہ بڑے اطمینان اور خوشی سے یہ کہتے جاتے تھے کہ سبحان اللہ یہ دن کسے نصیب ہوتا ہے۔یہ دن تو اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے آنے پر ہی نصیب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے جس نے مجھے یہ دن دکھایا۔(آپ فرماتے ہیں کہ ) نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی دیر میں جو لوگ حملہ کر رہے تھے ان کے نفس نے ملامت کی اور وہ شرمندگی اور ذلت سے آپ کو چھوڑ کے چلے گئے۔تو بات یہ ہے کہ جب دشمن دیکھتا